اسلام آباد (11دسمبر2019) حکومت جاپان پولیو ویکسین کی خریداری کیلئے پاکستان کو 4.5 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔ اس امداد سے پاکستان انسداد پولیو پروگرام دسمبر 2019 سے نومبر 2020 تک پانچ سال تک کے 2 کروڑ بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کا ہدف حاصل کرسکے گی۔
پاکستان انسداد پولیو پروگرام سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق حکومت جاپان کی جانب سے جائیکا اور یونیسیف کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے علاوہ پاکستان انسداد پولیو پر وگرام کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
جاری ہونے والے بیان میں کہا گیاہے کہ مذکورہ 4.5 ملین ڈالر کی امداد سے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کی خریداری کی جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق مذکورہ امداد سے 22.69 ملین پولیو کے قطروں کی خریداری کی جائے گی جس سے 2 کروڑ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ جس کا پولیو کے خاتمے میں کلیدی کردار ہوگا۔
اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے خطاب کرتےہوئے کہا، "پاکستان کو اس وقت پولیو کے خاتمے میں مشکل صورتحال کا سامنا ہے تاہم حکومت پاکستان ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور ہرممکن کوشش کررہی ہے کہ پولیو ویکسین تمام بچوں تک پہنچے۔ پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "حکومت جاپان کی مسلسل امداد سے بہترین معیار کی پولیو مہمات ممکن ہوسکیں گی اور پانچ سال سے کم عمر بچوں تک پولیو ویکسین کی رسائی ممکن ہوسکے گی۔"
معاہدہ پر دستخط کی تقریب کے دوران خطاب کرتےہوئے پاکستان میں جاپانی سفارتخانے میں تعینات یوسوک شیندو نے کہا، "حکومت جاپان ،حکومت پاکستان اور یونیسیف کے ساتھ مل کر پاکستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اورامید کی جاتی ہے کہ حکومت پاکستان ملک سے اس موذی مرض کے خاتمے کیلئے اپنی کوششوں میں مزید بہتری لے کر آئے گی اور عوام کو اس موذی مرض کی آگاہی میں موثر کردار ادا کرے گی۔"
پاکستان میں یونیسیف کی سربراہ آئیڈہ گرما نے اس موقع پرکہا، "یونیسیف جاپانی عوام اور حکومت جاپان کی پولیو کے خاتمے کیلئے کوششوں پر مشکور ہے۔ حکومت جاپان کی جانب سے امداد کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کہ پاکستان کو پولیو وائرس کی روک تھام کیلئے کوششیں تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس امداد سے پاکستان میں بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا۔" انہوں نے مزید کہا، "مجھے یقین ہے کہ ہم حکومت پاکستان کے مستقل عزم اوردوسرے اتحادیوں کی مدد سے بہت جلد پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کا ہدف حاصل کرلیں گے۔"
اس دوران تقریب سے خطاب کرتےہوئے پاکستان میں جائیکا کے سربراہ نے کہا، "پاکستان میں پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈر بہترین کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ جائیکا پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کررہی ہے۔" اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، "جائیکا کو امید ہے کہ ویکسین بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کرے گی اورپولیو ویکسین کا والدین اور پولیو ورکرز کے تعاون سے موثر استعمال ہوگا۔"
جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں پولیو وائرس پر بڑی حد تک قابو پایا ہے تاہم 2019 میں پولیو مہمات میں بڑے پیمانے پر انسداد پولیو قطروں سے رہ جانے والے بچوں کی وجہ سے پولیو کیسز رپورٹ ہوئے۔ رواں سال پولیو کے 94 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں زیادہ کیسز خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
پاکستان انسداد پولیو پروگرام 2020 میں پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے موثر پولیو مہمات کی منصوبہ بندی کر چکا ہے جن میں 3 قومی انسداد مہمات اور 3 ضمنی قومی مہمات ہوں گی۔ پولیو کے خاتمے کیلئے بچوں کو ہر مہم میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا اشد ضروری ہیں۔ جس سے نہ صرف پولیو وائرس کا تدارک ممکن ہوسکے گا بلکہ بچوں کی قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوگا۔
حکومت جاپان 1996 سے پاکستان میں پولیوکے خاتمے کے پروگرام کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔ حکومت جاپان کی طرف سے اب تک انسداد پولیوکے خاتمے کیلئے 221.87 ملین امریکی ڈالر (24،128 ملین جاپانی ین) کے فنڈزفراہم کئے جا چکے ہیں۔
نوٹ برائے ایڈیٹرز
پولیو سے پانچ سال کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں اس سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر اس موذی وائرس کو پھیلانے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلانے سے دنیا کے تقریباً تمام ممالک پولیو فری ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہمارا قومی فریضہ ہے۔