اسلام آباد ( 15 دسمبر) 16 دسمبر سے شروع ہونے والی انسدادپولیو مہم میں 4 کروڑ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف ہے، 2019 کی اس آخری پولیو مہم میں 260000 پولیو ورکرزحصہ لے رہے ہیں پاکستان پولیو پرگرام سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کے دن بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلا کر باقاعدہ مہم کا آغاز کردیا ہے، وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ " تمام والدین سے گزارش ہے کہ جب بھی پولیو ورکرز ان کے دروازے پر دستک دیں تو اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائیں" انھوں نے مزید کہا کہ پولیو ورکرز نے اس موذی مرض کے خاتمے کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں اور یہی ہمارے اصل ہیرو ہیں۔
وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ "پولیوویکسین انتہائی محفوظ ہے اور یہ ہمارے بچوں کو پولیو جیسے خوفناک مرض سے بچانے کے لئے بہت ہی ضروری ہے۔" انھوں نے مزید کہا کہ" پولیو کے پاکستان میں خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ تمام پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں اور تمام والدین اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان دنیا میں دو ممالک رہ چکے ہیں جہاں پر پولیو کی بیماری پائی جاتی ہے ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس موذی مرض کی روک تھام میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
" پولیو کیسز میں اضافہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے نہیں پلوائے گئے ، بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کے لئے ضروری ہے کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں جائیں " کوارڈینٹر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے یہ بات کہی ہے۔
جاری بیان میں تمام مکتبہ فکر سے اپیل کی گئی ہے کہ 16سے 20 دسمبر تک اپنے پانچ سال تک کے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے بچوں کو قطرے نہیں پہنچ پاتے تو والدین صحت محافظ ہیلپ لائن 1166 پر اپنی شکایت درج کرسکتے ہیں، درج شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی اور بچوں کو فوری طور پر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔