اسلام آباد16فروری2020)

سترہ فروری سے سال 2020 کی پہلی قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز ہورہا ہے جس میں39 ملین سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف ہے، اس مہم میں 2 لاکھ65 ہزار پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔

وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ دسمبر میں کامیاب قومی انسداد پولیو مہم کے بعد سال کی پہلی قومی انسداد پولیو مہم کے لئے حکومت نے ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے ہیں۔ ہم پولیو کے خاتمے کیلئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں۔ پانچ سال تک کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا یقینی بنانے کیلئے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں- ہم نے اس سے پہلے ہونے والی پولیو مہمات کی کارکردگی کی بنیا د پر اس بار تمام صوبائی اور ضلعی ٹیموں کے ساتھ بہتر نتائج کے لئے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

کوآرڈینیٹر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کی اشد ضرورت ہے، جس سے ہم بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتے ہیں،ہم 2020 میں بہتر نتائج کی توقع رکھتے ہیں، ہم اکیلے پولیو کا خاتمہ نہیں کرسکتے ہمیں تمام بچوں تک رسائی کیلئے عوام سے تعاون درکار ہے۔ ہر شہری صحت تحفظ کا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ اپنے ارد گرد بچوں کو بھی انسدادپولیو قطرے پلوانے میں اپنا کردار ادا کریں. "

پاکستان انسداد پولیو پروگرام سردی کے موسم میں ہونے والی مہمات میں بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ہمیشہ کیلئے پولیو وائرس کا خاتمہ کردیں گے۔ پروگرام نے پولیو وائرس پر قابو پانے کے لئے دسمبر فروری اور اپریل میں قومی مہمات اور وائرس والے علاقوں میں جنوری اور مارچ میں خصوصی مہمات کی منصوبہ بندی کی ہے. وفاق سے 50 سے زیادہ ماہرین کی تعیناتی سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملک کے ہر علاقے میں پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطروں کی رسائی ممکن بنائی جائے۔ پاکستان انسداد پولیو پروگرام بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کررہا ہے۔ ضروری ہے کہ والدین اپنے پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائیں۔والدین کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ز، علماء کرام ، صحافی اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ اپنا کردار ادا کرکے مہم کو کامیاب بنائیں. والدین کو اپنے بچوں کو پولیو وائرس سے بچانے کیلئے پولیو ورکرز کو خوش آمدید کہنا چاہیے جو ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلواتے ہیں۔

پاکستان انسداد پولیو پروگرام نے لوگوں کی آسانی کیلئے صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166 کی سہولت بھی دستیاب کی ہے۔ اس ہیلپ لائن پر والدین براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں اور پولیو سے متعلق کسی بھی سوال کا جواب حاصل کرسکتے ہیں۔ اس ہیلپ لائن میں مختلف مقامی زبانوں میں معلومات کی فراہمی کی سہولت موجود ہے۔ مہم کے دوران والدین 1166 پر رابطہ کرکے مہم میں رہ جانے والے بچوں کو بھی رپورٹ کرسکتے ہیں جن کو فوری ان کے گھروں میں قطرے پلا دیئے جائیں گے۔

بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان دنیا کے 2 ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس موجود ہے۔ پاکستان نے 1994 سے پولیو کے خاتمے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ سال2020 میں اب تک17 کیسز آچکے ہیں جن میں10 خیبرپختونخوا، 5 سندھ اور 2 کیس بلوچستان سے رپورٹ ہوا ہے۔

نوٹ برائے ایڈیٹر۔

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے