جنوری سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے دو قطرے ضرور پلائیں،فوکل پرسن

اسلام آباد(پ ر)21جنوری سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم میں3کروڑ90لاکھ سے زیادہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔قومی ایمرجنسی  آپریشن سنٹر برائے انسداد پولیو اسلام آبادسے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق انسداد پولیو مہم میں2لاکھ60ہزار پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں۔پولیو ورکر گھر گھر جا کر پیدائش سے لے کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا یقینی بنائیں گے۔

جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق2018میں ملک بھر سے پولیو کے12کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں بلوچستان کے ضلع دکی سے تین،خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ سے ایک،لکی مروت سے ایک،کراچی کے علاقے گڈاپ سے ایک،خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر سے ایک اور باجوڑ سے پانچ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔پولیو کیسز میں نمایاں کامیابی کے باوجود پولیو وائرس کا وجود ابھی بھی موجود ہے۔دسمبر کے مہینے میں ملک کے8بڑے شہروں کے گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ان شہروں میں کراچی،پشاور،بنوں،لاہور،راولپنڈی،قلعہ عبداللہ،پشین اور کوئٹہ شامل ہیں۔

وزیراعظم کے معاون برائے انسداد پولیو بابر بن عطا نے کہا ہے کہ’’21جنوری سے شروع ہونے والی پولیو مہم میں والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا یقینی بنائیں،موجودہ موسم پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے موزوں ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ’’پولیو ورکرز ہمارے قومی ہیرو ہیں ان کی خدمات قابل تعریف ہیں۔پولیو ورکرز اس بار بھی گھر گھر جا کر ہر بچے کو انسداد پولیو کے قطرے پلانا یقینی بنائیں گے‘‘۔

بیان کے مطابق قومی ایمرجنسی آپریشن سنٹر ملک بھر میں پولیو مہم کی کامیابی کیلئے سرگرم عمل ہے اور مہم کی کامیابی کیلئے قومی ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے ملک بھر میں50 ماہرین اپنی خدمات سرانجام دیں گے۔ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ نے پاکستان میں انسداد پولیو مہم کی بہتری کیلئے تجاویز دی ہیں جس کے مطابق انسداد پولیو کے قطروں سے رہ جانے والے بچوں کو خصوصی طور پرقطر ے  پلانے پر توجہ دی جائیگی تاکہ پولیو سے رہ جانے والے بچے پولیو قطرے پینے سے محروم نہ رہیں اور وائرس کا خاتمہ ہمیشہ کیلئے کیا جاسکے۔

کوآرڈینیٹر قومی ایمرجنسی آپریشن سنٹر ڈاکٹر رانا صفدر کے مطابق’’پولیو کے خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی پر کام کررہے ہیں اور پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر بار انسداد پولیو کے قطرے ضرور پلائیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ’’بہترین موقع ہے کہ وائرس کا خاتمہ ہو اور بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کیا جاسکے‘‘۔

مزید معلومات کیلئے مندرجہ ذیل نمبروں پر رابطہ کریں۔

ڈاکٹر رانا صفدر،کوارڈینیٹر انسداد پولیو مہم،قومی ادارہ صحت اسلام آباد، موبائل نمبر03005103689

نوٹ برائے ایڈیٹرز

پولیو سے پانچ سال کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں اس سے بچے عمر بھر کے لئے معذور ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو قطرے پلا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلا کر اس موذی وائرس کو پھیلانے سے بچایا جاسکتا ہے۔بار بار پولیو قطرے پلانے سے دنیا کے تقریباً تمام ممالک پولیو فری ہو چکے ہیں۔انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہمارا قومی فریضہ ہے۔