اسلام آباد(پریس ریلیز)10دسمبر سے شروع ہونے والی انسداد پولیومہم میں 3کروڑ 80لاکھ سے زیادہ بچوں کو پولیوکے قطرے پلائیں جائیں گے، قومی ایمرجنسی سنٹر برائے انسداد پولیو اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق چار روزہ پولیومہم میں 2 لاکھ70 ہزار صحت محافظ حصہ لے رہے ہیں ،صحت محافظ گھر گھر جاکر پیدائش سے لیکر پانچ سال سے کم عمر بچو ں کو پولیوکے قطرے پلانایقینی بنائیں گے ۔
جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق اس سال ملک بھرسے پولیو کے آٹھ کیسز رجسٹرڈ ہوئے ہیں ، جن میں بلوچستان کے ضلع دکی سے تین ، خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ سے ایک کیس ، کراچی کے علاقے گڈاپ سے ایک کیس ، خیبر پختونخواہ کے ضلع خیبر سے ایک کیس اور باجوڑ سے دو کیسز شامل ہیں 2014ء سے پولیو کیسز میں 97 فیصد کمی آئی ہے جبکہ2014ء میں پولیو کے 306 کیسز رپورٹ ہوئے تھے ۔
بیان کے مطابق اس بڑی کامیابی کے باوجود نومبر کے مہینے میں ملک کے سات بڑے شہروں کے گٹر کے پانی میں پولیووائرس کی تصدیق ہوئی ہے، ان شہروں میں سندھ میں سکھر، کراچی ،خیبر پختونخوا میں پشاور اور مردان ، پنجاب میں لاہور اور راولپنڈی اور دارلخلافہ اسلام آباد شامل ہیں ۔جس کی رپورٹ قومی انسداد پولیو پروگرام نے اس مہینے کے آغاز میں جاری کی تھی۔
پولیو کے انسداد کے لئے وزیراعظم کے فوکل پرسن بابر بن عطا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ " 10دسمبر سے ملک بھر میں ہونے والی پولیو مہم میں والدین پیدائش سے پانچ سال کے بچوں کوپولیو کے دوقطرے ضرور پلائیں، ہر پاکستانی صحت محافظ کا کردار ادا کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے گھر اور گردونواح میں کو ئی بھی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہے ۔ "
کوارڈی نیٹرقومی ایمرجنسی سنٹر برائے انسداد پولیو ڈاکٹر رانا صفدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ " موجودو موسم پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے بہترین ہے قومی انسداد پولیو پروگرام کی پوری کوشش ہے کہ پولیو وائرس کو پولیو مہم کے ذریعے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردے " انھوں نے مزید کہا کہ" قومی انسداد پولیو پروگرام نے ملک بھرمیں اس بات کو یقینی بنایاہے کہ بچوں کو پولیو قطرے ضرورپلائے جاسکیں تاکہ پولیو وائرس سے چھٹکارا حاصل کیاجاسکے "
جاری ہونے والے بیان کہاگیاہے کہ جن بچوں کو اس مہم سے پہلے بھی قطرے پلائے گئے ہیں وہ اس مہم میں پیدائش سے پانچ سال کے بچوں کو پولیو کے دو قطرے ضرور پلائیں تاکہ بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوسکے ایسے علاقے جہاں پر بچوں کی قوت مدافعت میں کمی پائی جاتی ہے وہاں پر بچوں کوپولیو کے قطرے پلانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔
جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے واحد دو ممالک ہیں جہاں پر 2018ء میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، اس بارپولیو مہم میں اس بات کو یقینی بنایا جارہاہے کہ ہر ایک بچے کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں جائیں ۔