اسلام آباد- 15جنوری2020

  ریجنل ڈائریکٹر رافیل فرانکیل کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد کا دورہ کیا جہاں پر ان کو پولیو کے خاتمے میں درپیش چیلنجز، کارکردگی اور فیس بک سے درکار تعاون کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔ وفد نے ای او سی میں قائم کنٹرول روم اور چوبیس گھنٹے پولیو تحفظ کال سنٹر کا بھی دورہ کیا۔

کوآرڈینیٹر نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے وفد کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک انٹرنیشنل کے تعاون سے بڑی حد تک سوشل میڈیا پر پولیو ویکسین مخالف پروپیگنڈا پر قابو پایا جا چکا ہے اور فیس بک پر مثبت مواد میں اضافہ ہوا ہے۔ فیس بک کے تعاون سے مقامی سطح پر لوگوں کو آگاہی مل رہی ہے جو ایک مثبت قدم ہے۔

وفد نے وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا سے ان کے آفس میں ملاقات کی۔ معاون صحت نے فیس بک پر منفی مواد کو بلاک کرنے اور تعاون کو سراہا۔ اس تعاون سے والدین کو اس بات پر آمادہ کیا جارہا ہے کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے اور ٹیکہ جات بچوں کی بہترین صحت اور مستقبل کیلئے موثر عمل ہے۔ سال2019 میں افواہوں اور منفی پروپیگنڈا نے انسداد پولیو پروگرام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ فیس بک کے جاری تعاون سے ہم بہت جلد پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنادیں گے۔

فیس بک کے ریجنل ڈائریکٹر پبلک پالیسی رافیل فرانکیل نے وزیر صحت سے ملاقات کے دوران بتایا کہ پاکستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے فیس بک انٹرنیشنل کا تعاون جاری رہے گا۔ حکومت پاکستان کی کوششیں پولیو کے خاتمے کیلئے موثر ثابت ہورہی ہیں۔ پولیو کے جڑ سے خاتمے کیلئے فیس بک انٹرنیشنل اپنا تعاون جاری رکھے گا۔ حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے فیس بک انٹرنیشنل کے ریجنل ڈائریکٹر نے والدین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کیلئے پیدائش سے 5 سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

پاکستان اور افغانستان دنیا میں دو واحد ممالک ہیں جہاں پر پولیو کیسز رونما ہورہے ہیں۔ پاکستان میں 1994 سے پولیو کے خاتمے کیلئے کوششیں جاری ہیں تاہم بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے اور افواہوں کی وجہ سے سال 2019 میں بچے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے جس کی وجہ سے پاکستان میں 135 کیسز رپورٹ ہوئے۔ والدین سے گزارش ہے کہ ہر مہم میں ہر بار اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔

-----------------------

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر  حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔