اسلام آباد (10جنوری2020)

وفاقی وزارت صحت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پاکستان پر کوئی نئی سفری پابندی عائد کی گئی ہے، 2014 میں عالمی ادرہ صحت کی سفارشات پر جو پابندیاں لگائی گئی تھیں وہ ابھی بھی برقرار ہے، وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ’’ پاکستان پر کسی بھی قسم کی نئی سفری پابندی عائد نہیں کی گئی ہے‘‘۔

 

پاکستان کیلئے 2019 پولیو کے خاتمے کیلئے چیلنج ثابت ہوا۔سال 2019 میں اس موذی مرض سے 134 بچے معذور ہو چکے ہیں۔ حکومت نے 2020 کے آغاز سے ہی پولیو کے خاتمے کیلئے موثر منصوبہ بندی کی ہے جس کا ثبوت دسمبر 2019 میں ہونے والی کامیاب انسداد پولیو مہم ہے۔ یہ بات وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بعض اخبارات میں نئے پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے جواب میں کہی ہے۔

پاکستان سمیت دوسرے وائرس زدہ ممالک کے بین الاقوامی سفر کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی ایمرجنسی کمیٹی آئی ایچ آر کی سفارشات کے حوالے سے وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس طرح کی سفارشات مئی 2014 میں بھی وائرس کی روک تھام کیلئے کی گئی تھیں۔ عالمی برادری کا رکن ہونے کی حیثیت سے اور ایک ذمہ دار ملک ہونے کے لحاظ سے پاکستان نے فوری طور پر اس پر عملدرآمد شروع کردیا تھا اور اس پر ابھی تک عملدرآمد ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے دوسرے ممالک سفر کرنے والے اوسطاً 5 لاکھ لوگوں کو پولیو ویکسین دی جاتی ہے اور اس سلسلے میں جو سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے وہ 12 ماہ تک موثر رہتا ہے۔ اسی طرح پاک افغان بارڈر پر تمام عمر کے 1 لاکھ 80 ہزار مسافروں کو ویکسین دی جاتی ہے۔ معاون خصوصی نے مکمل طور پر اس خبر کی تردید کی ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی کمیٹی نے بیرون ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کیلئے مزید کسی قسم کی پابندی عائد کی ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان انسداد پولیو پروگرام کو 2019 میں سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔ تاہم انسداد پولیو پروگرام نے ان تمام وجوہات کا جائزہ لیا اور ان چیلنجز پر قابو پانے کیلئے موثر حکمت عملی ترتیب دی۔ ’’ دسمبر 2019 میں ہونیوالی قومی انسداد پولیو مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ وائرس کے خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے، دسمبر میں ہونیوالی قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز وزیراعظم پاکستان عمران خان اور تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے کیا جس میں 5 سال سے کم عمر 40 ملین بچوں کو کامیابی سے انسداد پولیو ویکسین پلائی گئی‘‘۔ یہ بات قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے کہی ہے۔

قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر 13 جنوری سے شروع ہونے والی خصوصی انسداد پولیو مہم میں پیدائش سے 5 سال تک کی عمر کے 12 ملین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم کا آغاز کررہا ہے۔ اس مہم میں ان اضلاع کو شامل کیا گیا ہے جہاں پر وائرس موجود ہے۔ اس کے بعد فروری اور اپریل میں قومی انسداد پولیو مہمات اور مارچ میں مخصوص اضلاع میں انسداد پولیو مہمات چلائی جائیں گی۔ ان مہمات سے بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا اور جون 2020 تک پولیو پر مکمل قابو پالیا جائے گا۔

وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت پولیو وائرس کے خاتمے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار ہے اور جن علاقوں میں وائرس موجود ہے وہاں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ وائرس زدہ علاقوں میں بچوں کی قوت مدافعت میں اضافے کیلئے پاکستان انسداد پولیو پروگرام نے ای پی آئی کے ساتھ مل کر کام کا آغاز کردیا ہے۔ جہاں پر وائرس زیادہ پایا جاتا ہے وہاں 40 یونین کونسلز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان یونین کونسلز میں بنیادی صحت، قوت مدافعت، صاف پانی، نکاسی آب کی صورتحال بہتر بنائی جارہی ہے تاکہ ممکنہ پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ہوسکے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ نئی حکمت عملی سے عالمی اداروں بشمول پولیو اوور سائٹ بورڈ کو آگاہ کیا جا چکا ہے جنہوں نے اس پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ بہت جلد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا پولیو سے پاک ہو جائے گی۔

نوٹ برائے ایڈیٹر:

پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر  حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔