اسلام آباد 29 دسمبر 2019: 

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کو  پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کے سلسلے میں پہلا قدم قرار دیتے ہوئے    وزیرِ اعظم کے   خصوصی مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا  کہ  حالیہ دسمبر میں پولیو مہم کے   نتائج یہ ثابت کررہ ہیں کہ  پروگرام ایک بار پھر درست سمت  اختیار کرچکا ہے  ۔

ڈاکٹر ظفر مرزا کو ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے 16-20 دسمبر 2019 میں منعقد ہونے والی    پولیو کے خاتمے کی مہم  کی تکمیل کے بعد   تفصیلی بریفنگ دی ۔ یہ مہم اپریل 2019    کی مہم کے بعد منعقد ہونے والی پہلی  قومی  سطح پر منعقد ہونے والی  مہم تھی  جبکہ اپریل میں منعقد ہونے والی مہم  کے دوران پشاور  میں ہونے والے ناخوشگوار  واقعات    پروگرام  کی سرگرمیاں   میں عارضی   تعطل کا باعث بنے تھے ۔

 وزیرِ اعظم کے   خصوصی مشیر برائے صحت کو بتایا گیا کہ  حالیہ مہم کے دوران  265, 000 فرنٹ لائن ورکرز نے 43.9 ملین پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے   جبکہ اس مہم کا ہدف39.6 بچوں  تک رسائی تھی ۔  کراچی ، پشاور ، خیبر ، کوئٹہ ، پشین  اور قلعہ عبداللہ     جو پولیو وائرس کے ذخائر سمجھے جاتے ہیں وہاں  پولیو مہم  میں ایک دن کا اضافہ کیا گیا تھا  تاکہ ان بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلائے جاسکیں  جنہیں گھر گھر کے دورے کے دوران  کسی نہ کسی وجہ سے یہ  قطرے نہیں پلائے جاسکے تھے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا    کہ پولیو پروگرام درست سمت میں رواں دواں ہے  اور حکومتِ پاکستان  کا یہ پختہ عزم ہے کہ وہ   ان موسموں میں جب پولیو وائرس کی گردش اور  دوسرے مقامات تک منتقل ہونے  کا عمل سست ہوتا ہے   پاکستان میں پولیو وائرس  کے خاتمے کو یقینی بنانے میں ضرور  کامیاب ہوگی ۔ 

انہوں نے  پولیو کے خاتمے  کی مہم کے دوران   قانون نافذ کرنے والے اداروں  کی کارکردگی اور مسلسل  حمایت کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ اس بار مہم کے دوران پاکستان کے نقشے پر موجود کوئی ایک جغرافیائی  مقام ایسا نہیں تھا  جو پولیو ٹیموں کے  لئے ناقابلِ رسائی ہو ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون  نافذ کرنے والے اداروں کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے کہ حالیہ مہم پُرامن طریقے سے مکمل ہوئی ہے ۔ انہوں نے اس قع  پر والدین   اور بچوں کی دیکھ بھال کے ذمہ داران کی ایک بڑی تعداد  کے مثبت کردار کو سراہا  جنہوں نے پولیو ویکسین پلانے والی ٹیموں کو  اپنے دروازے پر خوش آمدید کہا ۔ انہوں نے کہا کہ والدین  کے تعاون کے بغیر  پولیو سے پاک پاکستان کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔  اس موقع پر فرنٹ لائن ورکرز کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا   کہ پروگرام کو فرنٹ لائن ورکرز کی  ماضی میں  دی گئی قربانیوں کو  ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنا چاہتا  اور انہیں پولیو  مہم  کے/ کی  ہیروز سمجھنا چاہیے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے  اس حالیہ پولیو مہم کا   افتتاح اپنے ہاتھوں سے کیا  اور اس بار پولیو کے خاتمے  کے لئے  عزم ہر سطح پر دکھائی دیا ۔ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ  نے پولیو مہم کی قیادت کی اور اس دوران متعلقہ  چیف سیکرٹریز ، صوبائی  ای او سی کوآرڈینیٹرز اور ضلعی انتظامیہ نے بھی اس مہم  میں بڑھ چڑھ کر شرکت کی ۔

یہاں پر اس بات کا خصوصی طور پر تذکرہ ضروری ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ  پاکستان میں انسدادِ پولیو کے اقدام نے  صحت تحفظ ہیلپ لائن  کا آغاز کیا  جس کا مقصد ویکسینیشن کی قومی مہم کے دوران  پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی بروقت  معلومات  سامنے لانا ہے ۔ اس ہیلپ لائن پر  کُل  253  کالز موصول ہوئیں جن میں سے 154  میں ویکسین پلانے کی درخواست  کی گئی۔  کال سنٹرز  نے  آپریشن ٹیموں کی مدد سے فوری طور پر جوابی  اقدامات اٹھائے اور یوں  99%  بچوں کو پولیو ویکسین پلائی گئی ۔  اس کے علاوہ 24/7 وٹس ایپ ہیلپ لائن کی مدد سے ویکسین پلانے کی 79 درخواستیں موصول ہوئیں جن کے نتیجے میں فوری طور پر مقامی ٹیموں کو حرکت میں لایا گیا اور ان بچوں کو ویکسین پلادی گئی۔ والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کے ذمہ داران کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ 116 پر صحت محافظ ہیلپ لائن پر رابطہ کریں اور ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کے سلسلے میں اپنی شکایات اور خدشات کا اندراج  کرائیں۔

اس اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فرنٹ لائن ورکرز کی   صلاحیتِ کار  میں اضافے کی اشد ضرورت ہے۔ اس دوران آئندہ برس فروری میں منعقد ہونے والی مہم کے دوران ان یونین کونسلز کے لئے جہاں پولیو کے خطرات زیادہ ہیں پولیو پلس کا مربوط پیکیج شامل کرنے پر بات چیت ہوئی۔  اس کے علاوہ پولیو ویکسین کے بارے میں عام طور پر پائی جانے والی غلط فہمیوں کے خاتمے کے لئے پہلے سے مربوط حکمتِ عملی پر عمل درآمد پر بھی غور کیا گیا۔ اس حکمت عملی میں پولیو کے خلاف ہونے والے منفی پروپیگنڈہ کے خاتمے کے لئے کمیونٹی کی مسلسل حمایت اور عام طور پر پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے کے لئے وسیع البنیاد عزم کی اہمیت پر زور دیا گیا ۔

انسدادِ پولیو کے قومی کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر محمد صفدر نے اپنی گفتگو کا اختتام ان الفاظ پر کیا : ’’موسمِ سرما میں درجہ حرارت میں کمی ہمیں بھرپور موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم پولیو وائرس پر کاری ضرب لگا سکیں‘۔ پولیو کے انسداد کے پروگرام کا یہ عزم ہے کہ وہ آئندہ چند ماہ میں ہونے والی مہمات کو پولیو کے ہمیشہ کے لئے خاتمے کے سنہری موقع کے طور پر بروئے کار لائے گا‘۔

نوٹ برائے ایڈیٹرز:

پولیو ایک انتہائی وبائی مرض ہے جس کی وجہ پولیو وائرس ہے اور یہ مرض عام طور پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتا ہے ۔ یہ وائرس اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے اور یہ فالج کے  علاوہ  موت کا بھی باعث بن سکتا ہے ۔ جب کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں ، پولیو ویکسین وہ واحد طریقہ ہے جس کی مدد سے بچوں کو اپاہج بنانے والی اس بیماری کا تدارک ممکن ہے ۔ ہر بار جب پانچ سال سے کم عمر کے بچے کو ویکسین پلائی جاتی ہے ، پولیو وائرس کے خلاف ان کی قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ بچوں کو بار بار پولیو ویکسین پلانے کر دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کو پولیو سے بچایا جاچکا ہے ۔ پولیو ویکسین کی مدد سے دنیا کے تمام ممالک پولیو جیسی بیماری سے پاک ہوچکے ہیں۔