اسلام آباد( ) پولیو کے عالمی دن کے موقع پر مشہور کرکٹر وسیم اکرم کو سفیر مقرر کرلیا گیا ہے۔ پاکستان کے انسداد پولیو پروگرام کے قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹز سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق مشہور کرکٹر وسیم اکرم اور کوآرڈینیٹر نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، کنٹری ہیڈ یونیسیف آیڈہ گرما اور عالمی ادارہ صحت کی ڈاکٹر پلیتھا بھی موجود تھے۔
معاہدے کے مطابق مشہور سابق ہ کرکٹر وسیم اکرم عوام میں پولیو ویکسین کے بارے میں آگہی کیلئے پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ وسیم اکرم پولیو ورکرز کی حوصلہ افزائی کیلئے مختلف پروگراموں میں بھی شرکت کریں گے۔
جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نےمزید کہا کہ "معاشرے کے تمام مکتبہ فکر بشمول مذہبی و سیاسی رہنما، اساتذہ اور ڈاکٹرز مل کر بچوں کو اس بیماری سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ 2 لاکھ 60 ہزار پولیو ورکرز پاکستان پولیو پروگرام کے اصل ہیروز ہیں جن کی انتھک محنت سے ہی پاکستان عنقریب پولیو سے پاک ملک بنے گا’’۔"
پولیو کے سفیر وسیم اکرم نے انسداد پولیو پروگرام کیلئے موثر کردار ادا کرنے کے حوالے سے کہا کہ دنیا میں پاکستان اور افغانستان 2 ہی ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس ہے۔ تمام بچوں کو پولیو وائرس سے محفوظ رہنے کا حق ہے اور ہم سب عالمی برادری کے ساتھ مل کر پاکستان کے بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
بیان کے مطابق پولیو کا عالمی دن ہر سال 24 اکتوبر کو منایا جاتا ہے تاکہ پولیو ورکرز کی پولیو کے خلاف کی جانے والی کوششوں کو خراج تحسین پیش کی جاسکے۔ اس سال پولیو کے عالمی دن کو ’’ انسداد پولیو کے ہیروز‘‘ اور "ترقی کی کہانیاں: ماضی اور حال" سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس سال پولیوکے عالمی دن کے موقع پر انسداد پولیو ہیروز کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان 2 ہی ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس کی وجہ سے بچے پولیو کا شکار ہورہے ہیں۔ ماحول میں پولیو وائرس کی موجودگی بچوں کیلئے مسلسل خطرہ ہے۔ موجودہ حکومت ملک کو پولیو سے پاک کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیو ورکرز کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے پاکستان انسداد پولیو پروگرام کے تحت صوبائی سطح پر بھی مختلف پروگراموں کا اہتمام کیا گیا ہے۔
:نوٹ برائے ایڈیٹر
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔