اسلام آباد، 29 اگست 2019 پولیو کے خاتمے کے لئے ٹیکنیکل  ایڈوائزری  گروپ (ٹیگ) کا دو روزہ اجلاس جمعرات اور جمعہ کے روز اسلام آباد میں منعقد ہورہا ہے۔ اس اجلاس کا مقصد پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی راہ میں حائل  مشکلات اور بہتری کے  مواقع کا جائزہ لینا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں حکومتِ پاکستان کے اعلیٰ عہدیداران جن میں  وزیر مملکت برائے  صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، پولیو کے خاتمے کے لئے وزیرِ اعظم پاکستان کے فوکل پرسن جناب بابر بن عطا کے علاوہ پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے اہم  قائدین شرکت کررہے ہیں۔ اجلاس کے دوران پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لئے کی جانے والی جدوجہد  سے ٹیکنیکل  مشاورتی گروپ کے اراکین کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔

ٹیکنیکل  مشاورتی گروپ کے اس اجلاس میں بات چیت کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے یقین دلایا کہ پاکستان کو پولیو سے پاک ملک  بنانا حکومتِ پاکستان کی اوَّلین ترجیحات میں شامل ہے اور اس وقت حکومتِ پاکستان عوامی سطح پر پولیو ویکسین کے خلاف پائی جانے والی مزاحمت، حفاظتی ٹیکوں  اور معمول کیضروری ویکسینیشن کی  کی کم سطح اور ضلعی سطح پر  جزوی طور پر غیر تسلی بخش کارکردگی اور انتظام کاری جیسے مسائل کے پائیدار حل کے لئے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کا مکمل  عزم کرچکی ہے۔ اس وقت تک شناخت کردہ   مسائل کے باوجود ہمارا پولیو کے خاتمے کا عزم  آج بھی  غیر متزلزل  ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس بات کا پختہ ارادہ کرچکے ہیں کہ ہم بہت جلد اس  تشویشناک صورتِ حال سے نکلنے میں کامیاب ہوں گے اور بہت جلد پاکستان ایک پولیو سے پاک ملک ہوگا اور یوں پوری دنیا پولیو سے پاک ہوجائے گی۔

وزیر مملکت برائے صحت نے بتایا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم خود پولیو کے خاتمے کے لئے کی جانے والی کاوشوں کی قیادت کررہے ہیں اور اس وقت کی جانے والی کوششوں کا مقصد یہ یقین دلانا ہے کہ پولیو کی موجودہ تشویشناک صورتِ حال سے ،  جو اس سال پولیو کے 58 کیسز منظرِ عام پر لانے کا باعث بنی ہے،  پاکستان میں ہر سطح پر موجود بیوروکریسی کو آگاہ کیا جائے اور اس  توجہ  طلب صورت حال میں فوری  بہتری لانے پر زور دیا جائے۔

ٹیکنیکل مشاورتی گروپ  کے اراکین سے بات کرتے ہوئے وزیرِمملکت برائے صحت نے مختلف پروگراموں کے مابین تعاون کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے پروگرام اور حفاظتی ٹیکوں کے وسیع پروگرام (ای۔ پی۔ آئی) کے علاوہ دیگر پروگراموں کے مابین،  جن میں مربوط خدمات فراہم کرنے والا   پروگرام احساس  بھی شامل ہے،  باہمی تعاون کی روایت کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ دیگر بیماریوں کے علاوہ  پولیو کے خطرات کا شکار لوگ بھی عوامی صحت کے لئے اٹھائے جانے والے ان اہم اقدامات  سے فائدہ اٹھا کر  اپنی زندگیوں میں بہتری لاسکیں۔

موجودہ مشکلات کے باوجود پولیو کے خاتمے کے لئے مصروفِ عمل رہنے والے پیش قدم  کارکنان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے وزیرِمملکت برائے صحت  نے تمام بین الاقوامی شراکت داروں اور معطی (ڈونر) اداروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جو اس کٹھن وقت میں پولیو کے خاتمے کے لئے پاکستان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔

###

نوٹ برائے ایڈیٹر:

ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (ٹیگ) کے قیام کا مقصد مختلف ممالک میں پولیو کے خاتمے کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت اور گذشتہ سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیگ  کا ایک اور اہم  مقصد طے شدہ سرگرمیوں کو زیرِ بحث لانا اور قومی پروگراموں کو درپیش مشکلات  دور کرنے کے لئے سفارشات پیش کرنا ہے۔ ٹیگ کے اجلاسوں میں ہر ملک کے لئے مخصوص اراکین شرکت کرتے ہیں جن میں قومی نمائندوں کے علاوہ بین الاقوامی و مقامی شراکت دار اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ٹیگ کا اجلاس پاکستان میں ہر سال دو مرتبہ ہوتا ہے جس میں انسدادِ پولیو کے پراگرام کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے اور پولیو کے مکمل خاتمے کی منزل کے حصول کے لئے ماہرانہ تجاویز پیش کی جاتی ہیں۔

ٹیگ کے حالیہ اجلاس میں حکومت پاکستان، اہم شراکت دار اداروں مثال کے طور پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو، ایچ ، او)، اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف)، عالمی سطح پر انسدادِ پولیو کے لئے اقدام (جی، پی ، ای ، آئی) کے نمائندے، روٹری انٹرنیشنل، بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بیماریوں کے کنٹرول کے مراکز کے نمائندوں کے علاوہ اہم معطی اور ڈونر ممالک کے نمائندے شریک ہوئے۔

مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں:

ساجد حسین شاہ افسر تعلقات عامہ وزارتِ قومی صحت

فون: 03006305306

ای میل: sajidshahpro@gmail.com