اسلام آباد()پورے ملک سے رپورٹ ہونے والے کیسز میں آدھے کیسز بنوں ڈویژن سے رپورٹ ہوئے ہیں،وزیراعظم کے معاون برائے انسداد پولیو بابر بن عطا کے مطابق بنوں میں پولیو وائرس خطرناک ہے اگر ہنگامی بنیادوں پر اس کا خاتمہ نہ کیا گیا تو یہ انتہائی خطرناک ہے۔حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بذات خود اس کی نگرانی کریں گے
جاری ہونے والے بیان کے مطابق ملک بھر سے رپورٹ ہونے والے16کیسز میں سے8پولیو کیسز بنوں ڈویژن سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
جن میں سے5ضلع بنوں اور3قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بنوں میں پہلی بار2008میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کی وجہ سے بنوں اور شمالی وزیرستان میں 2014 میں بے شمار پولیو کیسز سامنے آئیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اس سے قریبی علاقے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیو وائرس سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہوسکتے ہیں۔پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے تاہم انسداد پولیو کے قطر ے پینے سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔بنوں ڈویژن میں پولیو وائرس کی مسلسل تصدیق اور کیسز کے سامنے آنے کے بعد پولیو پر وگرام نے بنوں میں خصوصی انسداد پولیو مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے وائرس کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔
وزیراعظم کے معاون برائے انسداد پولیو بابر بن عطا نے کہا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم متفقہ طور پر پولیو کے خاتمے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں اور پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے پاکستان کے ہر بچے تک پولیو کے قطروں کی رسائی کو ممکن بنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ اس سے ہمارا مستقبل وابستہ ہے۔
جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کوارڈینٹر خیبر پختونخوا ایمرجنسی آپریشن کامران آفریدی نے بنوں ڈویژن کی ضلعی انتظامیہ کو احکامات جاری کئے ہیں کہ پولیو مہم میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی انھوں نے کہا ہے کہ بنوں ڈویژن سے پولیو کے خاتمےکے لئے بھرپور کوششو ں کی ضرورت ہے تاکہ پولیو وائرس سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے.