دنیا بھر میں منایا جانے والا پولیو کا عالمی دن نہ صرف ہمارے لئے اُن تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے جو پاکستان بھر میں پولیو کے خاتمے جیسی عظیم تحریک سے وابستہ ہوئے بلکہ یہ دن ہمیں پولیو سے پاک پاکستان کی تاریخی منزل کے حصول کے لئے دعوتِ عمل بھی دیتا ہے۔
کچھ تصورات یا پھر ایک نصب العین کی اہمیت کسی انسانی بیماری کے انسداد سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جیسے لوگ اب چیچک کے خطرات سے محفوظ زندگی بسر کررہے ہیں، اسی ہم ایسی زندگی کے قریب تر ہیں جس میں ہمیں پولیو کا کوئی خوف نہیں ہوگا ۔
یہ کامیابی ہمیں اپنے ہراول اور بہادر صحت محافظ کارکنان کی کاوشوں کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے جن کی پشت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے فراہم کیا گیا تحفظ اور ہر سطح پر حکومت پاکستان کا عزم شامل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو پروگرام معیاری اعدادو شمار پر مبنی معلومات سے اتفادہ کرتے ہوئے کام کر رہا ہے جس کے ساتھ ساتھ کارکردگی سے متعلق ممکنہ خدشات کے جامع اور بروقت تعین اور نگرانی کی بدولت اعلیٰ معیار کی مہمات کا انعقاد ممکن ہو پایا ہے۔
یہ دن ہمیں قائل کردینے والی شہادتوں کے ساتھ آیا ہے کہ پاکستان نے پولیو کے خلاف جنگ میں ایک اور سنگِ میل عبور کرلیا ہے جس پر ہم سب کو خوشی منانے کی ضرورت ہے۔ اس خوشی کے ساتھ ساتھ یہ دن سنجیدگی سے غوروفکر کرنے کا دن بھی ہے کہ پاکستان آج بھی ان تین ممالک کی فہرست میں کیوں شامل ہے جہاں لوگوں کے سر پر پولیو کے خطرات اب بھی منڈلا رہے ہیں ؟ ہر مہم کے دوران نگرانی اور معیار میں مسلسل بہتری کے باوجود کیوں سینکڑوں اور ہزاروں بچے اب بھی پولیو ویکسین پینے سے محروم رہ جاتے ہیں؟ مستقبل میں پولیو کے وبائی صورتِ حال اختیار کرنے کے خلاف کون سے حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟
ایسے سوالات کی فہرست خاصی طویل ہوسکتی ہے۔
ابتر حالات اور وسیع پیمانے پر وباؤ کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان کی پولیو کے خلاف جنگ میں مصائب کے باوجود ابھرنے کی قوت اور اختراعی صلاحیت قابلِ داد ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر آج بڑی سے بڑی مشکل پر مصمم ارادے، موثر انداز میں اپنائی گئی حکمتِ عملی اور وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں قابو پایا جارہا ہے۔
ہمارے پولیو ورکرز کے اُن غیر مغلوب حوصلوں کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی جو جان کے خطرات اور ناخوشگوار حالات جیسی مشکلات کے باوجود مصروفِ عمل اور ثابت قدم رہے ۔ کوئی بھی مشکل امید کے ان فرشتوں کے حوصلے پست نہیں کرپائی اور انہوں نے ہر گھر کی دہلیز پر بے خوف و خطر امید کے چراغ روشن کئے ۔ یہ مرد اور عورتیں پاکستان کے جذبوں کی تجسیم ہیں ، اس پاکستان کے جذبوں کی جو مشکلات کے سامنے ڈٹ جانے والے حوصلہ مند اور پختہ ارادوں کے مالک لوگوں کا ملک ہے۔
اس بار پولیو کے عالمی دن کا موقع خوشی کا موقع ہے کیونکہ ملک میں پولیو کی موجودہ صورتِ حال پُرامید ہونے کی وجہ سے ہمارے حوصلے بلند کررہی ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ اس وقت تک کی جانے والی جدوجہد کے ثمرات کو قائم رکھتے ہوئے ہم پولیو وائرس کی منتقلی کے باقی ماندہ راستے بند کرنے کی کوششیں تیز تر کردیں ۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر میں ایک پودا لگاتے ہوئے شرکا پر زور دیا کہ وہ سرسبز پاکستان کے لئے شجر کاری مہم کا حصہ بنیں ۔
میرے خیال میں جو عوامل پولیو پروگرام کو اس کے اہداف کی منزل کے قریب کررہے ہیں ان میں سے سب سے اہم ہمارے ہراول دستے یعنی پولیو ورکرز کا عزم، حوصلہ اور یقین ہے کہ پاکستان کا پولیو سے پاک ہونا ممکن ہے اور یہ کام ہمارے علاوہ کوئی اور نہیں کرسکتا ۔ ہمیں اپنے اہداف کے حصول کے لئے ایسے ہی اہم اور جرات مندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں پولیو کے انسداد کا اقدام ایک شراکت ہے جس میں ہر شراکت دار نے پروگرام کو آگے لے کر جانے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا ہے۔ آج پولیو کے عالمی دن کے موقع پر میں ان ساتھی اداروں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے مستقل سپورٹ فراہم کی اور جو ملک کو پولیو سے پاک کرنے کے نیک مقصد کی راہ میں ہمارے ساتھ ساتھ چلے۔
پاکستان میں پولیو پروگرام کا آغاز آج سے 25 برس قبل ہوا جب پولیو ایک بڑھتی ہوئی وبا کی صورت اختیار کرچکا تھا اور آج ہم ایک طویل سفر کے بعد یہاں تک پہنچے ہیں۔ اُس وقت پولیو ہرسال ملک کے 20,000 کو اپنا شکار بنا رہا تھا۔ سالہا سال کی جدوجہد کے دوران ، ناقابلِ یقین حد تک مرتکز عمل اور محنت کے بل بوتے پر پولیو کا شکار ہونے والوں کی تعداد آج صفر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ بچوں میں پولیو کے خلاف مدافعت کی سطح بلند تر ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم پولیو ویکیسین کے ساتھ ملک میں تقریباً ہر اس بچے تک پہنچ رہے ہیں جسے پولیو ویکسین پلانا ضروری ہے۔
تاہم اس تمام جدوجہد کے باوجود، اس سال بھی پولیو کے چھ مریض منظرِ عام پر آئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر بچے تک نہیں پہنچ پائے ۔ یہ تعداد شاید ہمیں پہلے کے مقابلے میں بہت کم لگے مگر بیماری کے انسداد کے موجودہ مرحلے پر پولیو کا ایک کیس بھی ماضی میں کی گئی تمام جدوجہد پر پانی پھیر سکتا ہے اور پاکستان کسی بھی صورت میں اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
یہ وہ وقت ہے جب پولیو کا وائرس سب سے زیادہ زد پذیر ہوتا ہے اور اسی وقت اس پر کاری ضرب لگائی جاسکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس مہم کے دوران ہم پاکستان کے ہر بچے تک رسائی ممکن بنائیں تاکہ پولیو وائرس کے چھپنے کی کوئی جگہ باقی نہ رہے۔ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو کوئی بھی بچہ کبھی بھی پولیو کا شکار ہوکر معذور نہیں ہوگا اور تاریخ میں پولیو چیچک کے بعد دوسرا مرض ہوگا جس کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔ اس لئے والدین میں سے ہر ایک اور پاکستان کا ہر شہری پولیو کے خلاف جنگ میں ہمارا سپاہی ہے۔
بہترین منصوبہ بندی کی حامل بروقت اور اعلیٰ معیار کی ویکسین مہمات کے ذریعے پاکستان کے تمام زدپذیر بچوں تک رسائی اور انہیں پولیو ویکسین کے قطرے پلانا ممکن بنایا گیا ہے ۔ پولیو کے خلاف اس جنگ میں پُر عزم پولیو ورکرز نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ۔ اس دستے میں ویکسینیٹر بھی شامل تھے جنہیں ہم ’صحت محافظ‘ کہتے ہیں ۔ ہماری نسلوں کی صحت کے یہ 260,000 نگہبان پاکستان بھر میں بنیادی سطح پر کام کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بناتے رہے ہیں کہ ہر گھر ، ہر گلی ، ہر ضلعے اور ہر صوبے کے ہر بچے کو ہر مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے پلا ئے جائیں تاکہ وہ پولیو وائرس جیسے موذی دشمن سے محفوظ رہیں ۔
پاکستان کو پولیو کے خاتمے کے قریب لانے کی اس عظیم کامیابی کی اور بنیادی وجہ باضمیر اور پُر عزم والدین کے علاوہ بچوں کی نگہداشت کے ذمہ داران ہیں۔ پولیو کے خلاف اس جنگ میں انہوں نے اتحادیوں کا کردار ادا کیا اور صحت محافظوں کی آمد پر ہمیشہ اپنے دروازے کھول کر اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ان کے بچوں نے پولیو ویکسین کے قطرے پی لئے ہیں ۔ پاکستان کا ہر ایک شہری اور والدین انفرادی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتے ہوئے ہی وہ سازگار ماحول پیدا کرپائے ہیں جس میں پولیو کا وائرس اب زندہ رہ کر ہماری قوم ، ہماری اگلی نسل کو کبھی اپاہج نہیں بناسکتا تھا ۔
پولیو کے خاتمے کی اس تحریک کو پاکستان میں ڈاکٹروں ، مذہبی رہنماؤں اور قبائلی قائدین کی ہمیشہ واضح اور غیر مشروط حمایت حاصل رہی ہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے شہریوں کو پولیو کے علاوہ خسرے اور تشنج جیسے امراض کے خلاف بھی ویکسین کے استعمال کی ضرورت اور اہمیت پر ضروری تعلیم دی ہے ۔
میں والدین اور بچوں کی نگہداشت کے ذمہ داران سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس بار بھی اس بات کو یقینی بنائیں کہ محفوظ، حلال اور موثر ویکسین کے دوقطرے ان کے بچوں کو پلائے جاچکے ہیں ۔ ان قطروں کو جتنی مرتبہ پلایا جائے خطرے کی کوئی بات نہیں ۔ یہ محفوظ ، دنیا بھر میں قبول اور آپ کے بچوں کو پولیو جیسے خطرناک مرض سے بچانے کا واحد ذریعہ ہیں ۔
پولیو کے خلاف میں اہم کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود ا س وقت جشن منانا جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کے مترادف ہوگا کیونکہ اس جنگ میں ہماری فیصلہ کن فتح ابھی باقی ہے ۔ جب تک پولیو کا وائرس موجود ہے اور گردش کررہا ہے ہماری قوم کے بچے اس موذی بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ ملک سے پولیو کے خاتمے کا فریضہ ہمیں کسی اور نے نہیں ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے بھی ہمارے سپرد کیا ہے ۔
آخر میں مجھے یہ کہنا ہے کہ دنیا گواہ رہے گی جب موجودہ حکومت پولیو کے خلاف میں آخری فتح کا اعلان کرے گی اور پھر ہمارا کوئی بھی بچہ کبھی پولیو کا شکار نہیں ہوگا ۔
مضمون نگار انسداد ِ پولیو کے لئے وزیر اعظم پاکستان کے مقرر کردہ فوکل پرسن ہیں ۔