اسلام آباد، 27 اگست 2018: آج نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر میں ہونے والی ایک اعلی سطح کی بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر برائے قومی صحت عامر محمود کیانی نے پولیو کے خاتمے کے پروگرام کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے اس پروگرام کی مکمل حمایت کا یقین دلایا ۔ اس اجلاس میں دیگر اہم عہدیداروں کے علاوہ سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل وزارت برائے قومی صحت، مسلح افواج ، عالمی ادارہ صحت ، یونیسف، این سٹاپ اور بی۔ایم۔جی۔ایف کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
وزیر صحت نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر بچے کو اس تباہ کن مگر ویکسین کے ذریعے قابلِ علاج بیماری سے بچاو کیلئے خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے ۔ پولیو کے کیسز میں واضح کمی لائی جا چکی ہے ۔ پولیو کیسز کی تعداد 1990 کی دہائی میں 20,000 سالانہ تھی جبکہ 2017 میں صرف آٹھ کیسز سامنے آئے ہیں ۔ 2014 سے لے کر آج تک نئے پولیو کیسز میں 99 فی صد تک کمی آچکی ہے ۔ 2014 میں پولیو کے 306کیسز سامنے آئے تھے جب کہ اس سال ان تک صرف 3 کیسز ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آئندہ بھی کارکردگی کے اس مثبت رجحان کو برقرار رکھنا ہو گا اور پولیو کے خاتمے کی ہر مہم میں ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنانا ہو گا۔
یہ کامیابی ہمیں اپنے ہراول اور بہادر صحت محافظ کارکنان کی کاوشوں کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے جن کی پشت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے فراہم کیا گیا تحفظ اور ہر سطح پر حکومت پاکستان کا عزم شامل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو پروگرام معیاری اعدادو شمار پر مبنی معلومات سے اتفادہ کرتے ہوئے کام کر رہا ہے جس کے ساتھ ساتھ کارکردگی سے متعلق ممکنہ خدشات کے جامع اور بروقت تعین اور نگرانی کی بدولت اعلیٰ معیار کی مہمات کا انعقاد ممکن ہو پایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میری وزارت حالیہ کامیابیوں کے عمل کو مزید تیزی سے آگے بڑھانے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے اور وزیراعظم پاکستان کے وژن کے عین مطابق ہم جلد اپنا کام مکمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وزیر اعظم تمام پاکستانیوں کو بنیادی صحت، خوراک ، پانی اور صحت و صفائی کی فراہمی یقینی بنانا چاہتے ہیں ۔ پولیو ویکسین کے معیاری، موثراور محفوظ ہونے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے پروگرام کو ہدایت کی کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کریں کہ ہر مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو ویکسین پلانا کس حد تک ضروری ہے۔
بریفنگ کے دوران این۔ای۔او۔سی کے نیشنل کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے پولیو پروگرام کی اب تک کی کارکردگی اور باقی ماندہ چیلنجز کے حل کے بارے میں اٹھائے جانیوالے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا جب تک پولیو کا وائرس ملک میں کہیں پر بھی موجود ہے ، کوئی بچہ بھی پولیو کے خطرے سے محفوظ نہیں۔ اگرچہ 2018 میں پولیو کے خطرے سے دوچار بنیادی ہائی رسک علاقوں سے کوئی کیس ریکارڈ نہیں کیا گیا تاہم کہیں کہیں قوت مدافعت کی کمی سے دوچار بچے اس خطرے سے باہر نہیں ہیں۔پولیو کا مکمل خاتمہ ہمارا پہلا اور آخری مقصد ہے۔
اس کے باوجود کہ 2018 میں پولیو کے تینوں کیسز ایک ہی ضلع (دکی ، بلوچستان) سے ریکارڈ کئے گئے تاہم پولیو کا وائرس کراچی ، پشاور اور کوئٹہ کے اہم شہری علاقوں میں اب بھی ظاہر ہورہا ہے۔ پولیو کے خاتمے کی مہم کے فیصلہ کن مرحلے پر پروگرام کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا اور روٹین ویکسینیشن (حفاطتی ٹیکہ جات) میں تیزی لانا انتہائی ضروری ہے تاکہ مشترکہ کوششوں سے حاصل ہونے والے اب تک کے ثمرات کو مستحکم بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر صفدر نے وفاقی وزیر قومی صحت کو نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان (NEAP) 2018/19 پر بھی بریفنگ دی ۔ اس پلان کے تحت پروگرام اپنی بنیادی حکمت عملی کو جاری رکھتے ہوئے نئی اور بہتر حکمت عملیاں وضح کرنے کا پابند ہو گا۔ نئی حکمت عملی میں بچوں کو ویکسین پلانے کا جامع شیڈول بھی شامل ہے جس کے تحت پولیو ویکسینیشن کی چار قومی اور پانچ ذیلی قومی یا علاقائی مہمات کا انعقاد کرایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ معاونت پر مبنی نگرانی، افغانستان میں پولیو کے انسداد کے پروگرام کے ساتھ ہم آہنگی اور ٹھوس اعداد و شمار کے تجزیے کے بعد اختیار کی گئی ابلاغ کی نئی حکمت عملی متعارف کرانا بھی اس پلان کا حصہ ہیں تاکہ ہدف کے مطابق تمام کو پولیو ویکسین پلائی جاسکے۔
وفاقی وزیر نے بریفنگ کے اختتام پر ملک میں پولیو کے خاتمے کے لئے سرگرم ٹیم کی تعریف کی جن میں 260,000 صحت محافظ شامل ہیں ۔ وفاقی وزیر نے آئندہ نسلوں کی صحت کے تحفظ کیلئے کوشاں ان ہراول کارکنان کو قومی ہیرو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک جو اس وزارت کا حصہ ہے وہ ان کارکنان کی بہادری اور محنت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ہم ان کے لئے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر میں ایک پودا لگاتے ہوئے شرکا پر زور دیا کہ وہ سرسبز پاکستان کے لئے شجر کاری مہم کا حصہ بنیں ۔
مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں: ساجد حسین شاہ ، پبلک ریلیشنز آفیسر وزارت برائے قومی صحت sajidshahpro@gmail.com