بچوں کو پولیو کے موذی مرض سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ملک میں ذیلی سطح پر ویکسینیشن کی مہم جاری ہے
اسلام آباد،7 مئی : 2018پولیو کے تدارک کے لیے قائم ادارے، نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے مطابق آج سے ملک بھر میں پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔جس کے تحت 5 سال تک کی عمر کے 2 کروڑ 38 لاکھ بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلائے جائیں گے۔ اس مہم میں 1 لاکھ 61 ہزار کے قریب پولیو کارکنان آئندہ پانچ روز کے دوران گھر گھر جا کر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کی محفوظ اور مؤثر ویکسین کے دو دو قطرے پلائیں گے
اس حوالے سے وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے تدارک پولیو پروگرام ، سینیٹر آئشہ رضا فاروق نے کہا ہے کہ گزشتہ مہموں کی طرح پولیو سے تدارک کی اس مہم کی کامیابی کیلئے بھی مربوط حکمتِ عملی ترتیب دی گئی ہے تاکہ بچوں کا مکمل تحفظ ممکن ہو سکے اور اس موذی مرض کا پاکستان سے ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا جائے ۔ اس مہم میں کروڑوں بچوں کو گھر گھر جا کر پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ پولیو مہمات کی بدولت پاکستان میں آج پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد کم ترین سطح پر آ چکی ہے۔ اس کامیابی کا انحصار پولیو مہمات کی انتظامیہ سے لیکر پولیو کارکنان اور انکے ساتھ ساتھ والدین اور بچوں کی دیکھ بھال پر مامور دیگر افراد پر بھی ہے کہ وہ پانچ سال کی عمر کے ہر بچے کو پولیو ویکسین کے دو قطرے پلانے کا عمل یقینی بنائیں
سال 2014 سے اب تک پاکستان میں پولیو کے نئے کیسز کی تعداد میں مجموعی طور پر 97 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ سال 2014 کے اختتام پر پولیو کیسز کی تعداد 306 ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال 2017 کے اختتام پر صرف 8 تھی جبکہ رواں سال میں اب تک صرف ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے
تاہم قومی پروگرام برائے تدارک، پولیو وائرس سے متاثرہ مرکزی علاقوں جن میں کراچی، کوئٹہ بلاک اور پشاور شامل ہیں کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں بچوں کی قوت مدافعت کو بڑھانے کیلئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے
انہوں نے کہا کے آج پولیو مہم کے آغاز کے موقع پر نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر (این ای او سی) قوم کو یہ یقین دلاتا ہے کہ پولیو ویکسین محفوظ ، موثر اور حکومت پاکستان کے تحت کام کرنے والی اتھارٹیز سے منظور شدہ ہے۔اس حوالے سے سینیٹر آئشہ رضا فاروق کا مزید کہنا تھا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے محفوظ اور مؤثر ہیں اور یہی ویکسین دنیا کے دیگر ممالک میں پولیو کے خاتمے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔مزید برآں یہ ویکسین انتہائی احتیاط کے ساتھ شعبہ صحت کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق تیار کی جاتی ہے
نیشنل ایمرجنسی آپریشینز سنٹر برائے پولیو کے کوآرڈینیٹر، ڈاکٹر رانا محمد صفدر نے اپنے پیغام میں اس بات کی تاکید کی ہے کہ پولیو کے خلاف مدافعتی مہم کے دوران 5 سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو ہر بار پولیو ویکسین پلانا انتہائی ضروری ہے۔ڈاکٹر صفدر کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین کی متعدد خوارکیں (بعض اوقات 10 سے بھی زائد بار) بچے کو مکمل طور پر تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ہر اضافی خوراک بچے کے جسم میں پولیو وائرس کے خلاف موجود قوت مدافعت کو مزید مضبوط بناتی ہے
ایسے والدین جو اپنے بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے نہیں پلاتے وہ نہ صرف اپنے بچوں کی بلکہ گردونواح کے دوسرے بچوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ملک کے کسی بھی حصے میں پولیو کا وائرس موجود ہے تب تک کوئی بھی بچہ اس بیماری کے خطرے سے باہر نہیں۔ یاد رہے کہ کمزور قوت مدافعت کے حامل بچے پولیو وائرس کے لئے پناہ گاہ کا کام دیتے ہیں۔اس امر کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ جب بھی پولیو کی ٹیمیں آپ کے دروازے پر آئیں اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے دو حفاظتی قطرے ہر بار لازمی پلوائیں۔والدین اور بچوں کی دیکھ بھال پر مامور دیگر افراد کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی صحت کے مکمل تحفظ کیلئے پولیو کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسینیشن بھی ضرور کروائیں
سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے تحفظ کیلئے اس موذی وائرس کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں والدین سے اپیل کرتی ہوں کہ پولیو سے پاک پاکستان کا ہدف حاصل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں ، صحت محافظ کارکنان کیلئے دروازہ کھولیں تاکہ ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے پلائے جا سکیں