اسلام آباد، 20 مارچ 2018—پچھلے سال کی کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوءے جب کہ پولیو کہ صرف آٹھ کیس سامنے آءے تھے، پاکستان پولیو کے مہلک واءرس کو مکمل ختم کرنے کے لءے درست حمکت عملی پر کار فرما ہے اور یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ہم رواں سال میں اس مہلک مرض سے ہمیشہ کے لءے نجات پا لیں۔ یہ متفقہ راءے نیشنل پولیو مینجمنٹ ٹیم (این پی ایم ٹی) کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں سامنے آءی جہاں پروگرام سے متعلقہ قومی اور صوباءی نماءندوں نے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان (این ای اے پی) کا جائزہ لیتے ہوئے پولیو کی قلیل افزائش اور پھیلاؤ کے موسم برائے سال 2018/19 کے لیے موثر حکمت عملی اپنانے اور مذکورہ سال میں اہداف کے حصول کے لیے درست سمت میں جدوجہد جاری رکھنے کے حوالے سے تجاویز کو حتمی شکل دی ۔

نیشنل پولیو مینجمنٹ ٹیم (این پی ایم ٹی) کے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق کے علاوہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوارڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر سمیت تمام صوبائی ایمرجنسی اپریشنز سینٹرز بشمول اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر کے کوارڈینیٹرز اور نیشنل ای پی آئی پروگرام کے وفاقی اور صوباءی ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔ اپنے ابتدائی کلمات میں وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے این پی ایم ٹی کے شرکاء کا پولیو کے خاتمے کے حوالے سے پُر عزم جدوجہد جاری رکھتے ہوئے پولیو کے تدارک کے پروگرام کو درست سمت میں جاری رکھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔" آپ اور آپ کی ٹیم کی پولیوکے تدارک کے حوالے سے جدو جہد قابل ستائش ہے۔ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں اور ٹیم کی انتھک جدوجہد سے آج ہمیں ناقابل یقین کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں اور جلد ہم پاکستان کے تمام بچوں کے لیے پولیو کے موذی وائرس سے محفوظ ایک صحت مند معاشرے کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوں گے"۔

نیشنل کوآرڈینیٹر براءے پولیو تدارک ڈکٹر رانا محمد صفدر نے اس موقع پر شرکا ء کو بتایا کہ 2017 کا سال پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے حوالے سے ایک تاریخی سال کے طور پر جانا جاتا ہے۔ گذشتہ سال 2017ء کے اختتام تک سال 2014ء کے مقابلے میں پولیو سے متاثرہ کیسوں کی تعداد میں 97فیصد تک کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ سال 2014ء میں پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد 306، 2015ء میں 54، 2016ء میں 20 جبکہ گذشتہ سال 2017ء کے اختتام پر پولیو سے متاثرہ صرف 8 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم کی انتھک کوششوں سے ملک بھر کے بچوں کے گرد حفاظتی قطروں کی وجہ سے ایسا مدافعتی حصار بنا دیا گیا ہے کہ یہ مہلک پولیو کے جراثیم رواں سال میں ابھی تک ہمارے کسی بھی بچے کو اپنا شکار نہیں بنا پاءے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔

نیشنل پولیو مینجمنٹ ٹیم (این پی ایم ٹی) کے اجلاس میں تما م صوبوں ، فاٹا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پرگرام کی کارکردگی اور ان علاقوں میں پاےء جانے والے ممکنہ خطرات کو بروقت نمٹنے کے حوالے سے تفصیلی غوروخوض کے بعد عملی اقدامات بھی تجویز کءے گءے۔ٹیم کا متفقہ خیال تھا کہ ملک پولیو کے تدارک کی منزل کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور اب تمام مکاتب فکر کو پروگرام کی مدد کرتے ہوءے مثبت پیغامات لوگوں تک پہنچانے چاہءیں تاکہ کوءی بھی پولیو ویکسین کے حوالے سے پھیلاےء جانے والے پراپیگنڈہ کا شکار نہ ہونے پاءے۔ یہ انتہاءی افسوس کی بات ہے کہ ۲۰۱۷ میں سامنے آنے والے آٹھ میں سے پانچ کیسیز ان گھرانوں سے نکلے جنہوں نے کسی منگھڑت یا منفی پراپیگنڈے کی وجہ سے بچوں کو پولیوکے قطرے پلانے سے انکار کر دیا تھا۔ اجلاس میں لیبارٹری کی مستند رپورٹوں اور طبی ماہرین کی بنیاد پر یہ بات بھی بتاءی گءی کہ پولیو کے قطرے اور انجیکشن انسانی صحت کے لءے محفوظ ترین ہیں اور دنیا بھر میں دس ارب سے زاءد قطروں کے استعمال کے بعد کہیں بھی اس ویکسین کے کوءی منفی اثرات سامے نہیں آءے۔

پاکستان کی پولیو تدارک پرگرام میں عمدہ کارکردگی کو ملکی اور بین القوامی تمام اداروں کی جانب سے سراہا گیا ہے ۔پاکستان میں پولیو سے مکمل نجات کے ہدف کی نشاندہی کے بعد وفاقی حکومت نے صوبائی اور قومی سطح پر فعال ایمرجنسی اپریشنز سینٹزز کی مدد سے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان (این ای اے پی) کے نفاذ کو یقینی بناتے ہوئے حالیہ کامیابیوں کے حصول میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ملک میں جاری پولیو تدارک کے پروگرام کو اب اعلیٰ معیار کی پولیو مہمات، انتہائی احتیاط کے ساتھ اکھٹے کیے گئے اعدادو شار اور پروگرام کی نگرانی کے مربوط نظام کی وجہ سے اس موذی وبا کے پھوٹنے کی روک تھام اور پولیو وائرس کی افزائش اور پھیلاؤ کو محدود کرنے میں اہم کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں تمام بچوں کے والدین اور کمیونٹی کے افراد کو یہ عزم دہرانا ہو گا کہ اپنے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے ہر بار لازمی پلوائیں تاکہ انہیں پولیو کے موذی وائرس سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے اور یہ ہی اس وائرس کے خاتمے کے لیے جاری جدوجہد کی بنیاد ہے

پحالیہ کامیابیوں میں استحکام لانے کے حوالے سے سینیٹر عائشہ کا کہنا تھا، " لازوال کامیابیوں کے باوجود، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ پولیو کے خلاف جاری یہ جدوجہد صرف اس صورت میں مکمل ہو سکے گی جب ہم پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد کو مستقل طور پر صفر پر رکھنے میں کامیاب ہو جاءیں گے ۔اگرچہ ہم نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا ہو گا کہ ہم پولیو کے خلاف جنگ پوری طرح جیتے نہیں ہیں"۔ کراچی، قلعہ عبداللہ، پشین، کوئٹہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں پولیو وائرس کی افزائش اور پھیلاؤ کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ہم کراچی میں پولیو کے موذی وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے انتہائی تشویش کا شکار ہیں، کیونکہ یہ شہر معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے یہی وجہ ہے کہ ایسی کنجان آباد شہروں میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں۔

پولیو کے موذی وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کا حل کو ئی جادو نہیں ہے تاہم سخت محنت اور والدین اور کمیونٹی کے افراد میں یہ آگاہی پیدا کرنا کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے ہر بار لازمی پلوائیں، اس موذی وائرس کے پھیلاؤ کو مستقل بنیادوں پر محدود کرسکتا ہے۔ ہمارے صف اول کے ورکرز گھر گھر جا کر 3 کروڑ 70 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے کے عمل کو یقینی بنانے میں ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں"۔ مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجئیے: ساجد حسین شاہ، پبلک ریلیشن آفیسر، وزارت قومی صحت، sajidshahpro@gmail.com،3006305306

نوٹ برائے ایڈیٹر: نیشنل پولیو مینجمنٹ ٹیم (این پی ایم ٹی) قومی و صوبائی ایمرجنسی اپریشنز سینٹرز کے کوارڈینیٹرز اور حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام ای پی آئی کے مینیجرز پر مشتمل ہے جس میں پاکستان کے تمام صوبوں اور فاٹا کی نمائندگی کا خیال رکھا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں بین الاقوامی شراکتی اداروں کا کردار بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے جو پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے اور اس موذی وائرس کی افزائش کی روک تھام کی حوالے سے حکمت عملی وضع کرنے اور نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان کے مکمل نفاذ کے حوالے سےحکومتی اداروں کے تعاون سے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔