اسلام آباد، 2 مارچ 2018 ۔ جاپان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ پولیو کے تدارک کے لیے پاکستان کے وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں قائم ریجنل ریفرنس لیبارٹری میں استعمال ہونے والے سائنسی و تحقیقی آلات کی خریداری میں 30 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر کی مالی امداد فراہم کرے گی۔
جدید ٹیکنالوجی سے لیس مالیکیولربیالوجی کے سائنسی و تحقیقاتی آلات ، جنیٹک اینا لائزر، پی سی آر مشین، انکیوبیٹرز اور فریزرز کے علاوہ دیگر آلات کی خریداری سے لیبارٹری میں نمونہ جات پر تحقیقی عمل کو مزید موثر بنانے میں مدد حاصل ہو گی۔ ان نئے آلات کے استعمال سے نا صرف ریجنل ریفرنس لیبارٹری میں جسمانی معذوری کے شکار افراد کے فضلات پر مشتمل نمونہ جات پر تحقیقی عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی بلکہ یہ لیبارٹری پولیو کے حوالے سے تشویش کے حامل علاقوں سے نکاسی آب کے نمونہ جات پر تحقیق کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ صرف گذشتہ سال 2017ء کے دوران ریجنل ریفرنس لیبارٹری میں پاکستان اور افغانستان سے 30 ہزار سے زائد انسانی فضلات اور 950 کے قریب نکاسیِ آب کے نمونہ جات پر تحقیقی عمل مکمل کیا گیا۔
مزید براں، جاپانی حکومت کی جانب سے دی جانی والی یہ مالی امداد پولیو ویکسین کے سٹاک کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھنڈک برقرار رکھنے والے پرانے سامان کی تبدیلی کیلئے کی مد میں استعمال ہو گیا۔ اس کے علاوہ انسانی فضلات اور ماحولیاتی نمونہ جات سے پولیو کے موذی وائرس کی تشخیص کے عمل کو یقینی بنانے میں کارآمد تحقیقی آلات کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے میں بھی مدد فراہم کرے گی۔
وزارت قومی صحت کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں حکومت جاپان، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور جاپان انٹرنیشنل کواپریشن ایجنسی (جائیکا) کے نمائندگان کے مابین باقاعدہ طور پر اس مالی تعاون کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی صحت سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا، "حکومتِ جاپان اور دیگر شراکتی اداروں کی جانب سے اس مستقل تعاون اور مستحکم شراکت داری کی وجہ سے گذشتہ دو سالوں کے دوران پولیو کے تدارک کے پروگرام میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔یہ نئی مالی امدادجدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک سے پولیو کے مکمل تدارک کے لیے اس وائرس کی تشخیص کے عمل کو مزید موثر بنانے میں مددگار ثابت ہو گی"۔
اس موقع پر پاکستان میں تعینات جاپانی سفیر تاکاشی کورائی کا کہنا تھا، "پولیو کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان میں اس موذی وائرس کی تشخیص کے نظام کو مستحکم بنانا ہمیشہ سے ایک اہم عمل رہا ہے۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہم اس انسان دوست مقصد کا حصہ ہیں۔ تاہم پاکستان سے اس موذی وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے یہاں پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے اور ویکسین کے حوالے سے ہمیں لوگوں میں آگاہی اور شعور پیدا کرناہے۔اس کے علاوہ پولیو سے بچاوَ کے لیے سرگرمیوں کو فروغ دینے سے متعلق ضروری اقدامات کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ پولیو کے خاتمے کے وسیع تر تناظر میں جاپان پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کا سلسلہ آئندہ مستقبل میں بھی جاری رکھے گا"۔
پاکستان میں جائیکا کے سربراہ یاسو ہیروتوجو کا کہنا تھا، "جائیکا پولیو اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں 1996ء اور 2001ء سے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے"۔ ان کا مزید کہنا تھا،" مجھے یقین ہے کہ اس مالی تعاون کے استعمال کے ذریعے ملک کے تمام اضلاع اور صوبوں میں پولیو کی تشخیص کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ اس مالی تعاون کی مدد سے ملک میں پولیو سمیت حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو مزید تقویت ملے گی جس سے ناصرف حکومتِ پاکستان کو ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ تدارک کے بعدپاکستان کوہمیشہ محفوظ رکھنے میں معاون ہو گی"۔
پاکستان میں جاری پولیو کے تدارک کا قومی پروگرا م ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کا طویل سفر مکمل کرنے کے قریب تر ہے، جس میں آئندہ تمام بچے، خاندان اور کمیونٹی کے افراد پولیو سے محفوظ صحت مند زندگی گزار سکیں گے۔ گذشتہ سال 2017ء میں پولیو سے متاثرہ افراد کی تعداد صرف 8 ریکارڈ کی گئی جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔ جبکہ سال 2016ء میں پولیو سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 اور 2015ء میں یہی تعداد 54 کے قریب تھی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں پولیو تدارک کے لیے ایمرجنسی سپورٹ مینیجر، کرسٹوفر مہر کا کہنا تھا، " جاپان کی جانب سے مالی امداد کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پولیو وائرس کی تشخیص کے لیے اس لیبارٹری کو مزید فعال بنانے اور موثر انداز میں چلانے کی اشد ضرورت ہے"۔
حکو مت جا پان پاکستان میں پولیو کے تدارک کے لیے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات میں 1996ء سے تعاون فراہم کر رہی ہے۔ حکومت جاپان کی جانب سے اعلان کردہ 30 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالر پر مشتمل موجودہ مالی امداد سمیت پاکستان کو اب تک 24 ارب ین (22 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر) کا مالی تعاون فراہم کیا گیا ہے تاکہ ملک میں جاری پولیو کے تدارک کے پروگرام کا مستحکم بناتے ہوئے ہمیشہ کے لیے پولیو سے نجات حاصل کی جاسکے۔
نوٹ برائے ایڈیٹرز:
پولیو ایک انتہائی موضی مرض ہے جو بنیادی طور پر ایک وائرس کے ذریعے 5 سال سے کم عمر بچوں کے جسم میں سرائیت کرتے ہوئے انہیں اپنا شکار بناتا ہے۔ یہ موذی مرض اعصابی نظام کو تباہ کر دیتا ہے جس سے انسان عمر بھر کے لیے جسمانی معذوری کا شکار ہو جاتا ہے اور بعض اوقات اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ بلاشبہ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے تاہم پولیو سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین کے استعمال سے بچوں کو اس موذی مرض سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ 5 سال سے کم عمر بچوں کو ہر مرتبہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلوانے سے انہیں اور کمیونٹی کے دیگر افراد کو اس موذی وائرس سے اضافی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کے عمل کو یقینی بنانے کی وجہ سے لاکھوں بچوں کو پولیو کے موذی وائرس سے تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے تقریباَ تمام ممالک کو پولیو سے مکمل طور پر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
پولیو کے موذی وائرس کی ممکنہ موجودگی اور افزائش کی بروقت تشخیص، پولیو کے تدارک کے لیے ترتیب دیے گئے نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان اور پاکستان میں جاری پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے کلیدی مقاصد میں سے ایک ہے۔ مزید براں، جسمانی معذوری کی وجوہات کی بروقت تشخیص کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے پولیو سرویلینس سسٹم کو استعمال کیا جانا چاہئیے تاکہ انسانی فضلے کے نمونہ جات کو باحفاظت ریجنل ریفرنس لیا رٹری میں پہنچا کر ان پر تحقیق کے ذریعے یہ پتہ چلایا جا سکے کہ متاثرہ فرد میں پولیو کا موذی وائرس موجود ہے یا نہیں۔
پولیو کی افزائش اور ممکنہ موجودگی کے حوالے سے نگرانی کے نظام کے تحت 2009ء سے تشویش کے حامل مختلف علاقوں سے نکاسی آب کے نمونہ جات پر تحقیق کے عمل کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اِن علاقوں کی آب و ہوا میں پولیو کے موذی وائرس کی ممکنہ موجودگی کا پتہ چلایا جا سکے۔ ابھی ملک کے 33 کے قریب اضلاع اور قصبوں میں پولیو وائرس کی ممکنہ موجودگی کا پتہ چلانے کے لیے نمونہ جات اکھٹا کرنے کے حوالے سے 53 جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ماحولیاتی نمونہ جات کی تشخیص کے عمل کو دنیا کا سب سے بڑا تشخیص کا نظام قرار دیا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی نمونہ جات کے لیے مختص جگہوں سے حاصل کردہ نمونہ جات کو اسلام آباد میں قائم ریجنل ریفرنس لیبارٹری میں تشخیص کے لیے بھیجا جاتا ہے تاکہ اس موذی وائرس کی ان علاقوں میں ممکنہ موجودگی کے حوالے سے پتہ چلایا جا سکے۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجئیے:
ساجد حسین شاہ، پبلک ریلیشن آفیسر،وزارتِ قومی صحت
5306 630 0300
sajidshahpro@gmail.com
ساجد عباسی، جاپانی سفارتخانہ
92519072500+
sajid.abbasi@ib.mofa.go.jp
زبیر احمد (پبلک ریلیشنز) جائیکا پاکستان آفس
92519244500+
ZubairMuhammad.PT@jica.go.jp