ڈاکٹر وحید معراج، خیبر پختونخواہ

یہاں تک کہ پاکستان کے دشوار گزار اور دور دراز اضلاع  میں نگرانی کے عمل کو مزید مربوط بنانے کے لیے اسکا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے تا کہ پولیو وائرس کی ممکنہ موجودگی اور مساکن سے مکمل طور پر آگاہ رہتے ہوئے ان کا بروقت سددباب کیا جا سکے۔

 چترال، جغرافیائی لحاظ سے خیبر پختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع، پاکستان کے شمال سرحدی علاقے میں واقع ہے۔ ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد سے متصل، چترال مالاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع میں سے ایک ہے جہاں بذریعہ زمینی راستہ رسائی کے لیے پشاور سے آگے تقریباَ 12 سے 14 گھنٹے کا طویل سفر درکار ہوتا ہے۔ لواری ٹاپ ، برف کی سفید چادر اوڑھے  10,800فٹ بلند  چوٹی  چترال اور ضلع دیر کو ملانے والا واحد راستہ ہےجو  مقامی افراد کو افغانستان سے پشاور اور اسلام آباد  کی جانب سفر کرنے میں زمینی راستہ  فراہم کرتا ہے۔ایسے دور درراز اضلاع میں چترال ایک ایسی جگہ ہے جہاں سنگلاخ پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے بسا اوقات 30 کلومیٹر کا قلیل راستہ طے کرنے میں بھی 4 گھنٹے سے زائد کا وقت درکار ہوتا ہے، ایسے میں وہاں آباد رہائشیوں کے لیے صحت اور طب کی بنیادی سہولیات کی فراہمی مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتی ہے۔

ان تمام سفری مشکلات کے باوجود ، پولیوپروگرام کے تحت ہر بچے تک رسائی کو ممکن بنایا گیا ہے ۔ بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے حوالے سے ماہ ستمبر میں منعقدہ نیشنل امیونائزیشن ڈے کے موقع پر پولیو ویکسینیشن کی ٹیموں ، سپروائزرز اور نگرانوں پر مشتمل افراد نے ضلع چترال میں پانچ سال سے کم عمر کے 72،000 (ہدف ٪84.99) بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلائے۔

اپر چترال سے متصل یونین کونسل یار خون کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہائش پزیر، میر صاحب اپنے کنبے کے ہمراہ دریا کے کنارے واقع ایک چھوٹے سےگھر میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔میر صاحب کی بیٹی فہمیدہ جسکے جسم کے نچلے حصے کو لقوہ مار گیا تھا کو ابتدائی تشخیص کے لیے چترال کے مرکزی شہر پہنچنے میں 6 سے 7 گھنٹے کی مسافت طے کرنا پڑی۔ میر صاحب کا کنبہ انتہائی پریشانی سے دوچار تھا کیونکہ انہیں یہ خطرہ کھٹک رہا تھا کہ پولیو وائرس کے حملے کے باعث فہمیدہ شاید عمر بھر کے لیے جسمانی معذوری کا شکارہو گئی ہے۔انتہائی سادہ زندگی اور صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث میر صاحب کو اپنی بچی کی صحت کے بارے  میں خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ ضلع چترال کے دور دراز قصبے، جسے گذشتہ کئی سالوں سے پولیو سے محفوظ علاقہ قرار دیا جا رہا تھا میں رہائش اختیار کرنے کے باوجودمیر صاحب کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ کہیں یہ موذی وائرس انکی بچی کو اپنے والدین سے ہمیشہ کے لیے جدانہ کر دے، لہذا میر صاحب اپنی بیٹی فہمیدہ کو چترال شہر میں واقع ہسپتال میں مرض کی تشخیص کے لیے لے گئے۔ ڈاکٹر گلزار احمد جنہوں نے فہمیدہ کے مرض کی ابتدائی تشخیص کے فرائض سرانجام دیے ، انہوں سے سب سے پہلے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں پولیو کیسز کے حوالے سے تشکیل کردہ نگران ٹیم کو اس کیس کے بارے آگاہ کیا۔

ایک عام بیماری کی طرح پولیو کے ممکنہ حملے کی وجوہات اور تشخیص کی جڑ تک پہنچنے کے لیے ایک ڈاکٹر نے متاثرہ لڑکی کے گھر پہنچنے کا فیصلہ کیا تا کہ بچی میں جسمانی معذوری کے اثرات  کو مد نظر رکھتے ہوئے  تشخیص کے عمل کو مکمل کیا جائے کہ کہیں اس ابتدائی معذوری کا سبب پولیو کا موذی وائرس تو نہیں۔ عام طور پر پولیو وائرس کی تشخیص کے لیے 24 گھنٹوں کے دوران مریض کے پاخانہ کے 2 مختلف نمونہ جات لیبارٹری کو بھجوائے جاتے ہیں۔ڈاکٹر یہاں مریض کے لواحقین /والدین کو پولیو وائرس کی تشخیص کے عمل (AFP) کے حوالے سے بہترین رہنمائی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔اس نظام کے تحت  مریض میں پولیو کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے اہم معلوماتی مواد اکھٹا کیا جاتا ہے پھر یہ سارا مواد تشخیص و علاج کے لیے مجاز شعبہ جات کو منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ AFP کے اس عمل سے متاثرہ شخص کے لواحقین/والدین کو یہ پتہ چلتا ہے کہ معذوری کی وجہ واحد پولیو کا حملہ ہی نہیں بلکہ بسا اوقات دیگر 25 کے قریب وجوہات میں سے کوئی بھی اس پریشانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان وجوہات میں شدید اعصابی تناؤ یا دماغی چوٹ کے باعث جسمانی معذوری ( Traumatic Neuritis)، اعصابی نظام پر مدافعتی کمزوری (Guillain-Barre Syndrome) اور اعصابی نظام اور ریڑھ کی ہڈی کے  کسی ایک حصے  کے درمیان عدم تعلقی  (Transverse Myelitis) جیسی وجوہات بھی جسمانی معذوری کے چند دیگر اہم اسباب میں سے ایک ہیں۔

 وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم عالمی ادارہ صحت (WHO) سے منظور شدہ قومی ادارہ صحت  (NIH) واحد ادارہ ہے جہاں پولیو مرض کی تشخیص کے لیے جدید ترین تحقیقی سہولیات سے مزین  لیبارٹری موجود ہےجو کہ دونوں ممالک پاکستان اور افغانستان کے لیے یکساں خدمات فراہم کر رہی ہے۔یہاں 6 سالہ بچی کے والدین کے لیے لیبارٹری کی رپورٹ آنے کا لمبا انتظار کتنا تکلیف دہ عمل ہے  اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔اس عرصہ کے دوران میر صاحب کی فیملی نے بیکار میں اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے چترال میں واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے اپنا رابطہ مسلسل برقرار رکھتے ہوئے اس ضمن میں کئی بار ہسپتال کے چکر لگائے۔ایک ماہ کے طویل عرصے کے بعد لیبارٹری سے آنے والی رپورٹ نے میر صاحب کی بچی میں پولیو حملے  بارے عدم تشخیص کی نوید سنائی جس سے پورے کنبے میں جیسے خوشی کی لہر سی دوڑ گئی ہو۔

مریض کے پاخانہ کے تشخیصی عمل کے دوران اس بات سے قطع نظر کہ لیبارٹی کی رپورٹ مثبت آتی ہے یا منفی ، AFP کے تحت تشخیصی مرحلے سے گزرنے والے مریض کو تقریباِ 60 روز تک متعلقہ ڈاکٹر کی زیر نگرانی مسلسل ذہنی، طبی اور ادویاتی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے جو کہ ایک انتہائی ضروری امر ہے تاکہ ممکنہ طور پر متاثرہ بچے کے والدین  کی درست معلومات اور احتیاطی تدابیر تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مکمل علاج کے بعد فہمیدہ عارضی جسمانی معذوری سے نجات پا چکی تھی اور اسکے اعصاب، جسمانی طاقت اوربالخصوص جسم کے نچلے حصے میں  خون کی روانی سمیت تمام اعضا پھر سے بحال ہو چکے تھے۔اس خوشی کے موقع پر فہمیدہ کی فیملی نے اپنے پیاروں اور رشتہ داروں کے لیے ایک چھوٹی سی دعوت کا انتظام کیا جہاں دن بھر مختلف روایتی پکوانوں سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔

پاکستان میں پولیو تدارک کی سرگرمیوں بالخوص ماہ ستمبر میں ضلع کوہستان کی قرب وجوار میں واقع علاقے میں پولیو کیس کی تشخیص کے بعد  نگرانی کا عمل انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ نگرانی کا یہ عمل چاہئے AFP کے تحت ہو یا ماحولیاتی گردش میں پولیو وائرس کی ممکنہ موجودگی کے حوالے سے ، موذی وائرس کےپھیلنے کی جگہوں کی نشاندہی ، ممکنہ اثرات اور پولیو سے بچاؤ کے حوالے سے منعقدہ مہم کے دوران طے شدہ اہداف اور حاصل کردہ نتائج کی جانچ میں مدد ملتی ہے۔

اس تکلیف دہ صورتحال سے گزرنے کے بعد میر صاحب کی فیملی پولیو کے خطرہ سے اتنی زیادہ آگاہ پہلے کبھی نہ تھی جتنی کہ اب ہے۔ میر صاحب کی زوجہ اور فہمیدہ کی والدہ پولیو مہم کے دوران ٹیم کو مکمل تعاون کرتی ہیں اور مستقبل میں بھی اس تعاون کے فروغ کا اعادہ رکھتی ہیں۔مختلف مذہبی اور دعائیہ تقریبات کے موقع پر فہمیدہ کی والدہ مقامی خواتین کو غیر رسمی گفتگو کے دوران AFP اور OPV کے حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کر تی ہیں تا کہ اس موذی وائرس کے مکمل سدباب کو ممکن بنایا جا سکے۔