اسلام آباد: 24ستمبر 2016 –  ترقی پسند بین الاقوامی شراکتی اداروں نے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے جاری جدوجہد میں پاکستان کی قابل رشک کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یہ تمام ادارے پولیو کے موذی مرض کے ہمیشہ کے لیے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیےکھینچی گئی حتمی لکیر عبور کر نے میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔   یہاں اسلام آباد میں قائم نیشنل ایمرجنسی اپریشن سینٹر میں ایک اعلیٰ سطحی نشست میں پولیو پروگرام سے منسلک ترقی پسند بین الاقوامی شراکتی اداروں کے نمائندگان نے تکنیکی اور مالی امداد کے حوالے سے اپنے اپنے ادارے کا نقطہ نظر تفصیلی طور پر پیش کیا۔ بین الاقوامی شراکتی ادارے جنہوں نے اس اجلاس میں شرکت کی ان میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن، کینیڈین ہائی کمیشن،   جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (JICA)،   یونائیٹڈ نیشنز چلڈرن فنڈ (یونیسیف UNICEF)، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)، روٹری انٹرنیشنل،  سی ڈی سی (CDC) اور یو ایس ایڈ (USAID)شامل تھے۔ نیشنل ایمرجنسی اپریشن سینٹر (NEOC) کے نیشنل کوارڈینیٹر  ، ڈاکٹر رانا محمد صفدر کی جانب سے بین الاقوامی شراکتی اداروں کے نمائندگان کو ملک میں جاری پولیو تدارک پروگرام کی موجودہ صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیاگیا۔پولیو کی موجودہ صورتحال کے علاوہ انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو پولیو پروگرام کی کارکردگی کے حوالے سے ایک آزاد انفرادی حیثیت میں کی گئی تحقیق جس میں سال 2015-16 کے دوران پولیو وائرس کی منتقلی کوانتہائی کم سطح تک مستقل محدود رکھنے کے حوالے سے تذکرہ کیا گیا ہے بھی پیش کی گئی۔ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ اور انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ کی حالیہ جائزہ رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئےڈاکٹر صفدر نے اجلاس کے شرکاء کو آئندہ آنے والے دنوں میں ملک بھر میں 26ستمبر سے شروع ہونے والی پولیو مہم کو درپیش ممکنہ مشکلات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان (NEAP) برائے 2016-2017کے بنیادی مقاصد میں پولیو وائرس کو تمام ممکنہ آماجگاہوں میں منتقلی سے  روکنا، پولیو وائرس کی تشخیص، نئے دریافت کردہ متاثرہ علاقوں سے پولیو وائرس کا خاتمہ، پاکستان بھی میں شیر خوار بچوں اور  پولیو سے بچائو کے حفاظتی اقدامات کے حامل آبادی میں پولیو کے قطروں اور دیگر حفاظتی ٹیکہ جات کے ذریعے اس بیماری کے خلاف قوت مدافعت میں اضافے کو یقینی بنانا, بین الاقوامی ادارہ صحت کی جانب سے پولیو وائرس کے متاثرہ ممالک کی تیارکردہ  فہرست  میں پولیو وائرس کی موجودگی کے خدشات کو صفر کی حد تک لاتے ہوئے اس فہرست میں درج ممالک کے نام نکالنےاور شدید متاثرہ علاقوں میں پولیو سے بچائو کے حفاظتی قطروں اور ویکسین کی فراہمی یقینی بناناشامل ہیں۔"پولیو تدارک پروگرام کے تحت اس موذی وائرس کو شکست دینے کے عزم اور کارکردگی کے مثبت اشاروں کی وجہ سے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں جس کا ثبوت پولیو کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی ہے۔ممکنہ طور پر اس موذی وائرس کی موجودہ آماجگاہوں میں خیبر- پشاور-ننگر ہار،  کوئٹہ-قندھار اور کراچی کے علاقے شامل ہیں"۔ ڈاکٹر صفدر کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی اور قومی اداروں بشمول مقامی کمیونٹی کے مسلسل تعاون سے ہم پولیو مہم میں تیزی لاتے ہوئے جلد ملک سے اس موذی وائرس کا مکمل صفایا  کرنے میں کامیابی حاصل کر لیں گے۔ قبل ازیں، اجلاس کے شرکاء سے مخاطب وزیر اعظم کی پولیو تدارک پروگرام میں ترجمان، سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے بین الاقوامی شراکتی اداروں کی جانب سے حکومت پاکستان کو پولیو سے پاک پاکستان کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تعاون میں یقین دہانی کے عزم کو خوب سراہا۔ اپنے جملہ آغاز میں سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا کہ پولیو تدارک پروگرام کی کارکردگی ، انتظامی امور اور نگرانی کے مربوط نظام میں بہتری کے باعث ہم نے گذشتہ 18 ماہ پر مشتمل طویل سفر بڑی کامیابی سے طے کر لیا ہے  اور اسی عزم کے ساتھ باقی ماندہ سفر کی جانب رواں دواں ہے۔ پولیو پروگرام میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سینیٹر عائشہ رضا کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان  نیشنل ٹاسک فورس (NTF) اور پرائم منسٹر فوکس گروپ (PMFG) کے ذریعے  پولیو کے خلاف جاری قومی پروگرام کی نا صرف براہ راست نگرانی کر رہے ہیں  بلکہ وہ اس حوالے سے درپیش مشکلات اور کامیابیوں کے حوالے سے بھی مکمل طور پر آگاہ ہیں۔ وزیراعظم اس پروگرام کو کامیابیوں کی بلندیوں پر دیکھنا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں نگرانی اور احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے کئی ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیو وائرس سے بچایو کے لیے حفاظتی قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور جلد ہی صف اول کے پولیو ورکرزجو کہ اس پروگرام  کے تحت مجوزہ پولیو مہم سے منسلک ہیں ، انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار مہینوں پر محیط جدوجہد اور مقامی حکومتوں کے تعاون سے شیرخوار بچوں کو اس موذی مرض سے بچائو کے لیے ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ پروگرام کی نگرانی اور احتساب کے عمل پر تذکرہ کرتے ہوئے ، وزیراعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام کا کہنا تھا کہ قومی سطح پر تمام اسٹیک ہولڈر کی مشترکہ رائے سے منظوری کے بعد تیار کردہ  کارکردگی اور احتسابی امور پر مشتل حکمت عملی کی وجہ سے اب تک مثبت کارکردگی کے اشارے سامنے آ رہے ہیں تاہم جہاں ضرورت پڑے وہاں اتھارٹی  ناقص کارکردگی کے حامل پروگرام سے منسلک سرکاری  اور شراکتی اداروں کے اہلکاروں کو فرایض کی انجام دہی سے برخاستی کے احکامات بھی جاری کرنے کی مجاز ہے۔ وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام کا مزید کہنا تھا کہ "ہمیں پیغام رساں اور دیگر عوامل  سے وابستہ مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے نا کہ انسانی وسائل   کی حوصلہ شکنی کی جائے"۔  سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے بین الاقوامی دنیا کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تکنیکی اور مالی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ "پولیو کے ممکنہ حملے سے قبل ہم ملک میں عوامی صحت کے وسیع تر مفاد میں ایمرجنسی اپریشن سینٹر  اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار کو اپناتے ہوئے مثبت نتائج کے حصول  کے لیے مشترکہ تعاون جاری رکھیں گے"۔ شراکتی اداروں کے نمائندگان نے پولیو کے تدارک کے لیے جاری پروگرام میں پاکستان کی حالیہ کامیابیوں کو  ملک میں جاری صحت سے متعلق دیگر پروگراموں کے لیے ایک مثالی نمونہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے نیشنل ایمرجنسی سینٹرز کے جال کو استعمال میں لاتے ہوئے مستقبل میں عوامی صحت کے وسیع قومی ایجنڈے  کو تشکیل دیا جائے۔