اسلام آباد، 21ستمبر2016: ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان میں پولیو تدارک پروگرام کے تناظر میں درپیش مشکلات اور مشترکہ مسائل پر سیر حاصل بحث کے لیے یہاں اسلام آباد میں دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والی پولیو ٹیموں کے ارکا ن کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پولیو وائرس کے تدارک کے لیے کھینچی گئی حتمی لکیر تک پہنچنے کے لیے دونوں ممالک کو سرحد پار رابطہ سازی کے وضع کردہ طریقہ کار میں بہتری لانا ہو گی۔ اجلاس کا انعقاد بنیادی طور پر خیبر پختونخواہ کے جنوبی علاقے/فاٹا اور افغانستان کے جنوب مشرقی علاقے میں حالیہ عرصے میں پولیو وائرس کی ممکنہ موجودگی کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں پر ممکنہ طور پر موجود پولیو وائرس کی آماجگاہوں، اور اس موذی وائرس کے پروان چڑھنے کے عمل کو روکنے کے حوالے سے مجوزہ اقدامات اور اس سلسلےمیں کی جانے والی منصوبہ بندی کا جائزہ لینا تھا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کی پولیو تدارک پروگرام کیلئے ترجمان سینیٹر عائشہ رضا فاروق اور ڈاکٹر ہدایت اللہ ستنکزئی ، وزارتِ عوامی صحت ، حکومت افغانستان کے لیے ترجمان برائے قومی پولیو مہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبائی، علاقائی اور ضلعی سطح پر دونوں ممالک کے مابین بقایا رہ جانے والے رابطہ سازی کے خلا کو اب ختم کر دینا چاہیے، علاوہ ازیں سپلیمنٹری امیونائزیشن ایکٹیویٹیز (SIAs) یعنی پولیو کے قطرے پلانے سمیت بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچائو کے حفاطتی ٹیکہ جات کی ضمنی سرگرمیوں کے منظم انعقاد کے لیے خصوصی منصوبہ سازی، دونوں ممالک کے مابین سرحدی علاقے پر مائیکرو سنکرونائزیشن، ویکسین سے محروم رہ جانے والی خطرات سے دوچار آبادی کے ایک بڑی حصے کی نشاندہی و رسائی ،ویکسینیشن کی فراہمی اور پولیو تدارک کے لیے بین الاقوامی اداروں سے تسلیم شدہ پولیو وائرس کی تشخیص کے طریقہ کار اے ایف پی (AFP) سرویلینس کے ذریعے مطلوبہ تنائج کے حصول کے عمل پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ڈاکٹر ہدایت اللہ ستنکزئی نے سرحد پار علاقوں کی ممکنہ آبادی جو کہ 10 لاکھ سے زائد ہے ،ان میں پولیو ویکسینیشن کی فراہمی یقینی بناے کے لیے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں پرسکریننگ کا عمل شروع کرنے پر زور دیا تاکہ پولی وویکسینیشن سے محروم رہ جانے والی آبادی کی صحیح معنوں میں نشاندہی ہو سکے۔ انہوں نے دونوں ممالک پاکستان اور افغانستان کی پولیو ٹیموں کی اس موذی مرض کے خاتمے کے لیے جاری مشترکہ جدوجہد کو خوب سراہا اور اس بات کی تاکید کی کہ دونوں ممالک کے مابین سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کرپولیو کا مکمل خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اپنے جملہ آغاز میں وزیر اعظم پاکستان کی پولیو تدارک پروگرام کیلیے ترجمان، سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے پولیو مہم اور نگرانی کے عمل میں مزید بہتری لانے اور پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ جانے اور خطرات سے دوچار علاقوں کی آبادی تک رسائی اور انہیں پولیوویکسینیشن کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا۔ سینیٹر عاشہ رضا کا کہنا تھا کہ "پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافے اور اس موذی وائرس کے ممکنہ پھیلائو سے ہمارے مقاصد کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں"۔ اجلاس کو پولیو پروگرام کی تازہ ترین صورتحال کے بارے آگاہ کرتے ہوئے سینیٹر عائشہ رضا کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کی سطح پر پولیو کے قطرے پلانے کے حوالے سے منصوبہ بندی کو بروئے کار لاتے ہوئے کراچی، پشاور/خیبر اور کوئٹہ کے علاقوں میں تقریباَ 3۔3 ملین یعنی تینتیس لاکھ کے قریب بچوں تک رسائی اور انہیں پولیو کے قطروں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، علاوہ ازیں شمالی سندھ میں موبائل ٹیم ایکشن پلان متعارف کروانے، کراچی کے مختلف علاقوں اور خیبر پختونخواہ کے جنوبی علاقوں میں نچلی سطح پر منصوبہ بندی میں شامل عوامل کو مستحکم کرنے ، ٹیموں کے انتخاب کا عمل، کام کے بوجھ کا حجم کم کرنے اور معاون نگرانی کے عمل کو اختیار کرتے ہوئے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر رانا محمد صفدر، نیشنل کوارڈینیٹر، نیشنل ایمرجنسی اپریشن سینٹرز نےشمالی و جنوبی وزیرستان اور افغانستان کے جنوب مشرقی علاقوں میں پولیو مہم میں مدافعتی خلا کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وجہ سے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں اور بالخصوص جغرافیائی علاقوں جیسے ہنگو براستہ ڈیرہ اسماعیل خان سے لے کر جنوب مشرقی افغانستان کے وسیع علاقے میں اس موذی وائرس کی ممکنہ افزائش کے خدشات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیاہے۔ ڈاکٹر صفدر کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان اور جنوب مشرقی افغانستان میں تشخیص شدہ پولیو کے تمام کیسز کی بنیادی وجہ پولیو کے قطروں کی بچوں کو ایک بھی خوراک نہ دلوانے اور سرحد پار نقل و حمل میں مصروف آبادی کا ایک بڑی حصہ خاص طور پر سیکورٹی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث ہجرت کرنے والی آبادی کی واپسی مشاہدے میں آئی ہے۔ موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے رہنمائی کے لیے وضع کردہ اصولوں پر مبنی دستاویز پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر رانا صفدر کا کہنا تھا کہ پولیو کے قطرے پلانے کے لیے مستقل بنیادوں پر بطور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اپنے فرائض سرانجام دینے والے ویکسینیٹرز اب کوئٹہ اور خیبر/پشاورکے ممکنہ طور پر متاثرہ علاقوں میں مقرر کردہ ہدف کے تحت 100 فیصد آبادی کو پولیو ویکسین کی فراہمی، کراچی میں 67 فیصد، پولوی وائرس کی ممکنہ آماجگاہوں اور شدید خطرات سے دوچار علاقوں میں اگلے سال 2017 میں پہلے دو ماہ جنوری فروری کے دوران بچوں میں دونوں طرح کی ویکسینیشن یعنی قطروں اور ٹیکوں کی صورت میں فراہمی اور مہلک بیماریوں سے بچوئو کے لیے بچوں میں معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات جو کہ خاص طور پر ایک سال سے کم عمر کے بچوں میں بیمارہوں کے خلاف قوت مدافعت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں کی فراہمی کو یقینی بنانا بھی آئندہ کے لائحہ عمل کا حصہ ہیں۔ ڈاکٹر صفدر کا مزید کہنا تھا "ہماری جانب سے پولیو تدارک کے لیے جاری پروگرام کی نگرانی کے سخت عمل کے باعث پروگرام کی کارکردگی میں مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کو پولیو کے قطروں کی فراہمی یقینی بنانا اور پولیو وائرس کی منتقلی کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات ہیں"۔ علاوہ ازیں اجلاس میں علاقائی اور ضلعی سطح پر فرائض سرانجام دینے والی پولیو ٹیموں کے مابین گاہے بگاہے نشستوں کے انعقاد کی تجویز پر بھی مکمل اتفاق کیا گیا تاکہ مستقبل میں پولیو تدارک مہموں میں زیادہ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطروں کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔