انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ کا پاکستان سے پولیو تدارک کیلئے بہترین کاکرکردگی کو جاری رکھنے پر زور

 

پولیو کا مکمل تدارک اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسکی ہرایک آماجگاہ ختم نہیں کر دی جاتی

 

اسلام آباد، 25اگست، 2016: نگرانی کے بین الاقوامی ادارے، انٹرنیشنل مانیٹرنگ بورڈ (ٰIMB) برائے عالمی پولیو تدارک پروگرام نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے اصلاحاتی تسلسل کے باعث حالیہ تسلی بخش کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ آج سے تین سال قبل اور آج کے پاکستان میں پولیو کے حوالے سے نمایاں فرق ہے۔

آئی ایم بی کے حالیہ منعقدہ تیرہویں سہ ماہی اجلاس کی رپورٹ میں پاکستان میں پولیو تدارک پروگرام کے حوالے سے سال بہ سال بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے: جیسا کہ پولیو کیسز میں ٪59 کی کمی، پولیو وائرس کی ممکنہ آماجگائوں میں کمی کے حوالے سے ماحولیاتی نمونہ جات کی تجزیاتی رپورٹوں کے حوصلہ افزا نتائج، پولیو تدارک مہم کے معیار میں مجوعی طور پر اضافہ، جبکہ مہم کے دوران پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی۔تاہم سال 2016 میں بورڈ نے اس موذی وائرس کی تعین کردہ ممکنہ آماجگائوں سے دیگر محفوظ علاقوں میں منتقلی کو روکنے کے لیے کوششوں اور جدوجہد کو مزید تیز اور فعال بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

حکومت پاکستان نے آئی ایم بی کی تجاویز کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران پولیو پروگرام کے تحت ملک بھر کے تمام علاقوں میں منتقدہ مہم  میں کارکردگی کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے کوششوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔

وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان سال 2016 تک پولیو وائرس کو محفوظ علاقوں میں پھلنے پھولنے سے روکنے اور اس کی ممکنہ آماجگائوں کے تدارک کے لیے پر عزم ہے۔

"ہمیں خوشی ہے کہ آئی ایم بی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ کیسے پاکستان کی موجودہ قیادت کی مظبوط سیاسی ہم آہنگی اور عزم کے باعث پولیو تدارک کے پروگرام کے تحت ملک کو اس موذی وائرس سے محفوظ بنانے میں انتہائی ذمہ داری کے ساتھ مثبت نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔ اس موذی وائرس کو مات دینے کےلئے ہم میں سے یہاں ہر ایک کو یہ عزم کرنا ہو گا کہ آنیوالے مہینوں میں ملک کا کوئی ایک بچہ بھی پولیو ویکسین کی فراہمی سے محروم نہ رہ جائے۔"

نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان (NEAP) 2016-2017، پولیو پروگرام کے معاملات چلانے، انتظامی امور اور ممکنہ خدشات کے تعین سمیت پاکستان میں جاری پروگرام کی نگرانی اور احتسابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے ایک ایسا مکمل دستاویز ہے جس پر عمل کرتے ہوئے بقایا رہ جانے والے خدشاتی عناصر سے بطریق احسن نمٹا جا سکتا ہے اعر اسی بات کی تائید آئی ایم بی کی رپورٹ میں بھی کی گئی ہے۔

"اس دستاویز (NEAP) کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے،پاکستان پولیو پروگرام میں نگرانی اور مشاہدے کے نظام میں مزید بہتری لانے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور اس ضمن میں پولیو تدارک کے لیے تیار کردہ ایک خاص مشاہداتی نظام کو تیار کر لیا گیا ہے جس میں پوگرام کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ صرف افرادی قوت میں اضافہ کیا جا رہا ہے بلکہ جدید بنیادوں پر استوار مختلف طریقوں جیسے Acute Flaccid Paralysis (AFP) کو اپناتے ہوئے ماحولیاتی نمونہ جات کی تجزیاتی رپورٹ میں اس موذی وائرس کی گردو نواح میں روک تھام اور موجودہ آماجگائوں تک محدود کرنے کے حوالے سے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں"۔ وزیر اعظم کی ترجمان برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا۔

 

انکا مزید کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت پاکستان میں ایمرجنسی آپریشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جس نے حکومتی اداروں سے منسلک متعلقہ سٹاف اور دیگر شراکتی اداروں کے نمائندوں کو ایک چھت تلے لا کھڑا کیا ہے تاکہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کی جانے والی جدوجہد کو مزید فعال انداز میں جاری رکھتے ہوئے پولیو کے موذی وائرس کا پاکستان سے ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ اس پروگرام کے تحت پولیو کے تدارک اور خاص طور پر دونوں طرف سرحد پار اس موذی وائرس کی ممکنہ آماجگائوں کے خاتمے کے لیے تعاون جاری رکھا ہے تاکہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھاتے ہوئے دونوں ممالک میں جاری پولیو پروگراموں کو مزید مستحکم کیا جائے اور پرگرام میں بہتری لاتے ہوئے متعین کردہ مطلوبہ مثبت نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (IMB)کا قیام ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کی درخواست پر نومبر 2010میں عمل میں لایا گیا تا کہ عالمی پولیو تدارک پروگرام کے اسٹریٹیجک پلان برائے سال 2010-2012کی کارکردگی کی نگرانی اور رہنمائی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ آئی ایم بی سہ ماہی بنیادوں پر اپنی رپورٹس جاری کرتی رہتی ہے تا کہ پولیو تدارک کے لیے کی جانے والی جدہجہد کا انتہائی ایمانداری اور شفاف طریقے سے تجزیاتی جائزہ متعلقہ اداروں اور ذمہ داران کی رہنمائی کے لیے باہم فراہم کیا جا سکے۔

 

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجئے:

ساجد شاہ، پی آر او، منسٹری آف ہیلتھ سروسز

فون: ۤ03006305306

sajidshahpro@gmail.com ای میل: