سینیٹر عائشہ رضا نے اپنا ایوارڈ صحت محافظوں اور شہید پولیس اہلکاروں ے نام کر دیا
اسلام آباد: 12اگست 2016- وزیراعظم کی نمائندہ خصوصی برائے پولیو تدارک پروگرام، سینیٹرعائشہ رضا فاروق نے اپنا ینگ ڈویلپمنٹ لیڈرز ایوارڈ برائےصحت ملک بھر میں پھیلے ہوئے ان 2 لاکھ سے زائد بہادر اور انسانی جذبے سے سرشارصحت محافظ علاوہ ازیں وہ پولیس اہلکار اور پولیو ورکرز جنہوں نے پاکستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے جاری پروگرام میں اپنی فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کی قربانی دی، ان کے نام کر دیا ہے۔
ینگ ڈویلپمنٹ لیڈرز ایوارڈ وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کی جانب سے یہاں جمعرات کو پاکستان وژن 2025 کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ تقریب میں سینیٹر عائشہ رضا کوشعبہ صحت میں جد ت لانے کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔
وزارت کی جانب سے منعقدہ اس پروقار تقریب میں سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے پاکستان بھر میں باہمت ہیلتھ ورکرز کو انسان دوست خدمات کے اعتراف میں سلام پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "جانی نقصان کے خد شات اور پرخطر ماحول کا بہادری سے سامنا کرنے والے یہ ہیلتھ ورکرز ہمارے اصلی ہیرو ہیں"۔ ان کا کہنا تھا کہ دشوار گزار علاقوں تک رسائی اورموسمی سختیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ ہیلتھ ورکرز جان لیوا پولیو وائرس کو مات دینے کے لیے بچوں کو حفاظتی ٹیکوں اور پولیو سے بچائو کی ویکسین کی فراہمی میں مصروف عمل رہتے ہیں۔
انہوں نے پولیو تدارک کی ٹیم کے اراکین کی شعبہ صحت میں جدت لانے، جذبہ سرشاری اور شفافیت کے عمل کو یقینی بنانے کے عمل میں مشترکہ کوشوں کا وزارت کی جانب سے اعتراف پر حکام کا شکریہ ادا کیا۔
وزارت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے نعرہ "میں پھلتا پھولتا پاکستان ہوں" پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر عائشہ کا کہنا تھا کہ " ہم پولیو سے پاک ایک بہتر اور محفوظ پاکستان کے حصول کے لیے سخت محنت کا عزم کرتے ہیں۔ اور بہت جلد ملک کو اس موذی مرض سے نجات دلائیں گے"۔
تقریب میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات پرویز رشید، وزیر مملکت برئے تعلیم بلیغ الرحمن، ایچ ای سی چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
قبل ازیں، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات، پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال نے افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہم سب کو چاہییے کہ پریشانیوں، رکاوٹوں اور مشکلات کو خیر باد کہتے ہوئے اس نئے نعرے کو اپنائیں کہ "میں پھلتا پھولتا پاکستان ہوں" اور اسے اپنا مقصد بنا لیں۔
"ہمیں بہتر انداز میں سخت محنت کرنی چاہییے تاکہ تمام شعبوں میں ایک محفوظ تقابلی ماحول فراہم کیا جا سکےاور یہی شرح نمو میں اضافے کی کنجی ہے۔ یہی وقت ہے جب معاشرتی حلقے آگے بڑھ کر پاکستان کو دنیا کی 25 صف اول کے معیشتی ممالک میں شامل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں قطؑع نظر دنیا کے بیشتر حصوں کو درپیش مشکلات کے"۔ وہ تقریب میں شامل پارلیمینٹیرینز سے خطاب کر رہے تھے۔
ینگ ڈیولپمنٹ لیڈرز ایوارڈ مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے جن غیر معمولی افراد کو دیے گئے ان میں ڈاکٹر ظفر حسین (شعبہ تعلیم)، آریب اظہر (طرز و ثقافت)، ڈاکٹر محمد نوید (شعبہ زراعت)، ڈاکٹر فیصل خان (انجینئرنگ)، برہان رسول (انفارمیشن ٹیکنالوجی)، نبیل قدیر (انٹرپرینیور)، زاہدہ حمید قریشی (کمیونٹی سروسز)، عمران معین الدین (شعبہ سائنس)، ڈاکٹر عبدالولی (بائیو ٹیکنالوجی)، انوار الحق (شعبہ توانائی)، فاران اویس بٹ (شعبہ ایجادات)اور ڈاکٹر مرتضیٰ نجابت علی شامل ہیں۔