امیونائزیشن پروگرام کا استحکام ہماری اولین ترجیح ہے: وزیر صحت

 

اسلام آباد، 28جولائی2016: وزارت قومی صحت سہولیات، قوانین و رابطہ کاری میں منعقدہ بین الادارہ رابطہ کمیٹی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے اجلاس کے شرکاء سے رسمی گفتگو میں بتایا کہ وزیر اعظم پاکستا ن کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملک میں شیر خوار بچوں میں مہلک بیماریوں سے بچائو کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات اور ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے اور امیونائزیشن کے عمل کو مستحکم کرنے کے لیے آئندہ چند ماہ میں پولیو انفراسٹرکچر کو امیونائزیشن کے ایکسپینڈ ڈ پروگرام (EPI)میں ضم کر دیا جائے گا۔

"بچوں میں ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی روزمرہ زندگی کا معمول بنانے کے حوالے سے معاملے کو آئندہ منعقدہ وزیراعظم فوکس گروپ کے اجلاس میں ترجیحی بنیادوں پر اٹھایا جائے گا"، یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے وفاقی وزیر سائرہ افضل تاررڑ کی جانب سے جب وہ بین الادارہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہی تھیں۔ آئی سی سی اجلاس میں سیکرٹری برائے وزارت قومی صحت سہولیات، قوانین و رابطہ کاری، ڈائریکٹر جنرل وزارت قومی صحت، وفاقی و صوبائی ای پی آئی مینیجرزاور شراکتی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

قبل ازیں، ڈاکٹر ثقلین احمد گیلانی، نیشنل پروگرام مینیجر ای پی آئی نے بین الادارہ رابطہ کمیٹی کے اراکین کو مندوب برائے مشترکہ نظرثانی کے اغراض و مقاصد اور تجاویز کا مختصر جائزہ پیش کیا۔ مندوب برائے مشترکہ نظرثانی وفاقی اور صوبائی سطح پر ای پی آئی پراگرام کا جائزہ لینے کے لیے آج کل پاکستان کے مختصر دورہ پر ہے۔ ڈاکٹر ثقلین احمد گیلانی نےاجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد امیونائزیشن پروگرام کو درپیش چیلینجز کی نشاندہی، تجزیہ اور جائزہ لینے کے علاوہ پروگرام کے استحکام اور اسے مزید فعال بنانے کے لیے تجاویز کو حتمی شکل دینا تھا۔ مندوب کے شرکاء نے چاروں صوبوں کا دورہ کیا اور متعلقہ اداروں اور ذمہ داران کے ساتھ مختلف اجلاسوں میں بھی شرکت کی۔

مندوب برائے مشترکہ نظرثانی مختلف ترقیاتی شراکت کے اداروں بشمول گاوی، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن، یونیسیف، ورلڈ بینک، ڈبلیو ایچ او، یو ایس ایڈ اور برطانوی ادارے ڈی ایف آئی ڈی سے وابستہ ماہرین برائے شعبہ صحت پر مشتمل تھا۔ مندوب برائے مشترکہ نظرثانی کے نمائندگان نے حکومتی قیادت کی وفاق اور صوبائی سطح پر ملک میں جاری امیونائزیشن پروگرام کے استحکام اور بہتری کے لیے مثبت سوچ اور کاوشوں کو سراہا۔

مندوب برائے مشترکہ نظرثانی نے وفاق اور صوبائی سطح پر قائم ای پی آئی کے مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران کو سالانہ بنیادوں پر کام کی منصوبہ بندی کے دستاویز کو جلد از جلد حتمی شکل دینے پر زور دیا تا کہ ایک مربوط نظام کے تحت پروگرام کے مختلف جزیات کا جائزہ لیتے ہوئے اسے درست سمت میں چلا کرمطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔  ای پی آئی اور پولیو کے مابین ایک متحدہ عمل کے فروغ کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے مشترکہ مندوب کی جانب سے یہ تجویز دی گئی کہ ملک میں امیونائزیشن کی سہولیات میں بہتریی ، نفاذ اورمشترکہ منصوبہ بندی کے لیے ای پی آئی اور پی ای آئی کے مابین رابطہ کاری کے نظام کو مستحکم کیا جائے۔


طبقاتی سطح پر لوگوں کے ساتھ مظبوط تعلقات استوارکرنا اور ان طبقات کو شعبہ صحت میں جد ت کی بنیادی معلومات سے آگاہ رکھنے کے عمل کو بھی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ جوائنٹ مشن کے اراکین نے ملک میں شعبہ صحت کے حوالے سے نگرانی کے عمل میں کمزوریوں کی نشاہدی کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اوراس میں بہتری لانے پر بھی زور دیا۔ ای پی آئی کے عملے اور دیگر متعلقہ اراکین کے لیے تربیتی پروگراموں پر بھی بات چیت کی گئی۔

 

آئی سی سی اجلاس کے دوران صوبائی ای پی آئی مینیجرزکی جانب سے ای پی آئی پروگراموں کے لیے پی سی-1 پر کارکردگی کی جائزہ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ صوبہ بلوچستان کے نمائندہ ای پی آئی مینیجر نے وفاق کی جانب سے بلوچستان کی ضروریات کو ترجیحی دائرے میں لانے کے عزم کو سراہا۔ سندھ اور خیبر پختونخواہ سے آئے ای پی آئی مینیجرز نے بھی اپنے متعلقہ پی سی-1 کے حوالےسے اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا۔ صوبہ پنجاب کے ای پی آئی مینیجر نے اس سال امیونائزیشن پروگرام میں روٹا وائرس متعارف کرانے کے لیے کی جانے والی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا۔