جاپانی سفیر کو حکومتی نمائندوں کی جانب سے پولیو تدارک پروگرام کی کارکردگی پر بریفنگ

 

اسلام آباد—08جون2010—جاپان کی عوام اور حکومت کی جانب سے پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلائو کی روک تھام اور مکمل تدارک میں استعمال ہونے والی پولیو ویکسین کی خریداری کے لیے فراہم کردہ مالی تعاون کو حکومت پاکستان انتہائی قدر کی نکاہ سے دیکھتی ہے اور امید کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین یہ انسان دوست تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ یہ کہنا تھا وزیراعظم کی نمائندہ خصوصی برائے پولیو تدارک، سینیٹر عائشہ رضا خان۔

ان خیالات کا اظہار سینیٹر عائشہ رضا نے پاکستان کے لیے جاپان کے مقرر کردہ سفیر تاکاشی کورئی کے یہاں بدھ کے روز نیشنل ایمرجنسی اپریشن سینٹر کے دورہ کے موقع پر ابتدائی تعارفی کلمات کی ادائیگی کے دوران کیا۔اس موقع پر جاپان کے سفیر کو ایوان بالا کی رکن سینیٹر اور این ای او سی کے نیشنل کوارڈینیٹر رانا محمد صفدرکی جانب سے پاکستان میں جاری پولیو پروگرام کی حالیہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جاپانی سفیر کے ہمراہ سفارتخانہ کے دیگر اعلی حکام کو پولیو کنٹرول روم کا دورہ بھی کرایا گیا جہاں انہیں اعداد و شمار کے براہ راست موصول ہونے کے عمل کے حوالے سے بھی تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔

مزید براں پاکستان میں تعینات جاپانی سفیر تاکاشی کورئی کو پولیو ویکسین کی خریداری اور اس ویکسین کو قابل استعمال حد تک محفوظ کرنے کے لیے قائم کردہ سردہ خانے اور کولڈ چین مینجمنٹ کے نظام کے حوالے سے بھی آگاہی فراہم کی گئی۔

حکومت جاپان پہلے ہی پاکستانی حکومت کو ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے جاری پروگرام کے استحکام کے لیے نرم شرائط پر فراہم کردہ قرض میں 92۔6ارب جاپانی ین (تقریباَ 59 ملین ڈالر)تک کی توسیع کر چکی ہے۔ اس حوالے سے جاپانی سفیر تاکاشی کورئی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ، ایڈیشنل سیکرٹری اکنامک افیئر ڈویژن، مسز انجم اسد امین مشترکہ طور پر ایک یاداشت پر بھی دستخط کر چکے ہیں۔ جبکہ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے فنانس، ریونیو، اکنامک افیئرز و نجکاری سینیٹر اسحاق ڈار نے ےاداشتی دستاویز پر دستخط کی اس تقریب یں خصوصی طور پر شرکت کی۔

قرض کی یہ خطیر رقم پولیو تدارک کے لیے جاری مہم کے دوران بچوں کو فراہم کردہ پولیو کے حفاظتی قطروں کی مجموعی طور پر273 ملین خوراکوں کی خریداری پر خرچ کی جائے گی۔ جاپان کی حکومت پولیو کے خااتمے کے حوالے سے اپنا ایک خاص نقطہ نظر رکھتی ہے جو کہ بلاشبہ عوامی صحت کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ 1996ء سے آج 20 سالوں کے دوران جاپان کی حکومت نے نہ صرف پولیو ویکسین کی خریداری بلکہ پولیو تدارک کے لیے جاری قومی سطح پر مہم کے استحکام، کولڈ چین کے مربوط نظام کے ذریعے ویکسین کی ملک بھر میں ترسیل، پولیو کے قطرے پلانے سے وابستہ افراد کی تربیت، جاپان کے طبی ماہرین کی پاکستان میں خدمات کی فراہمی اور دیگر سہولیاتی معاملات میں مسلسل تعاون فراہم کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان کی جانب سے نرم شرائط پر فراہم کردہ مالی امداد 6۔22ارب جاپانی ین (تقریباَ 5۔212ملین امریکی ڈالر) کی حد تک پہنچ چکی ہے۔