مسلم قائدین کا گروپ کے کردار میں توسیع پر غور

 

جدہ— 27جولائی— اسلامک ایڈوائزری گروپ برائے انسداد پولیو نے اقوام عالم میں پولیو وائرس سے متاثرہ رہ جانے والے بقایا دو اہم ممالک، پاکستان اور افغانستان سے اس موضی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے جاری انسداد پولیو مہم کے حتمی مرحلے میں تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے نئے مجوزہ منصوبہ ساز دستاویز سے رہنمائی کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اعلان سعودی عریبیہ کے شہر جدہ میں واقع اسلامی ترقیاتی بینک کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایڈوائزری گروپ کے تیسرے سالانہ اجلاس کیاختتامی تقریب کے موقع پر کیا گیا۔ علاوہ ازیں گروپ کے ذمہ داران نے اس ادارے کے فعال کردار میں توسیع کی تجویز کو سراہتے ہوئے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ اسلامک ایڈوائزری گروپ ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کے لیے پولیو کے علاوہ دیگر مہلک بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسینیشن کی فراہمی اور اس ضمن میں اٹھائے جانے والے سود مند اقدامات میں اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

گذشتہ چند سالوں سے مسلم ممالک میں پولیو تدارک کے لیے جاری پروگراموں کی ترویج و تکمیل کو سنگین قسم کے مسائل کا سامنا ہے جس کی بنیادی وجہ اس حوالے سے مختلف قسم کی غلط فہمیوں کی چند حلقوں کی جانب سے تخلیق اور پولیو کی قطروں کی فراہمی کے لیے بچوں تک با حفاظت رسائی کا فقدان ہے۔ اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیہ کے مطابق، اسلامک ایڈوائزری گروپ کا کہنا ہے "ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ پولیو اور اس جیسے دیگر موذی امراض جو بڑی آسانی سے شیر خوار بچوں کو اپنا شکار بنا سکتے ہیں، صحت سے متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے تصدیق شدہ ویکسینیشن بچوں کو ان موذٰ ی امراض سے بچائو کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے، اور ہم اس بات کی بھی تائید کرتے ہیں کہ ویکسینیشن کا یہ عمل اور اس کے مقاصد اسلامی قوانین کے عین مطابق ہیں"۔

اعلامیہ میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ بچوں کو صحت مند زندگی کی فراہمی کے لیے والدین اسے مذہبی فریضہ گردانتے ہوئے، بچوں کو پولیو کی قطروں اور دیگر بیماریوں سے بچائو کی حفاظتی ویکسین کی فراہمی یقینی بنائیں۔

ڈاکٹر صالحہ بن عبداللہ بن حومید، صدر انٹرنیشنل اسلامک فقیٰ اکیڈمی نے اجلاس کے شرکاء کو نبی الزماں، حضرت محمد (صلی اللہ و علیہہ و آلہی وسلم) کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ حضور پاک (صلی اللہ و علیہہ و آلہی وسلم) نے مسلمانوں کو بیماری کے خلاف علاج معالجہ کی تلقین کی ہے، "اے اللہ کے بندو! علاج و معالجہ کی جستجو کرو، اللہ جو ہر چیز پر غالب ہے، نے کوئی ایک بیماری بھی ایسی پیدا نہیں کی جس کا علاج فراہم نہ کیا گیا ہو، ہاں ماسوائے ایک بیماری کے، جس کا نام بڑھاپا ہے۔ ترمذی"۔ حومید نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بیماریوں سے لڑنے کے لیے علاج و معالجہ کی جانب رجوع کرنا کسی بھی طرح اللہ تعالیٰ پر اعتقاد یا توحید کے اصولوں سے متصادم نہیں ہے۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے بھوک اور پیاس سے نمٹنے کے لیے ہم خوراک اور پانی کا استعمال کرتے ہیں۔

اسلامک ایڈوائزری گروپ کا قیام 2013ء میں انٹرنیشنل اسلامک فقیٰ اکیڈمی، الازہر الشریف، اسلامی ترقیاتی بینک اور اسلامی تعاون کی تنظیم کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجہ میں عمل میں آیا۔ یہ تمام ادارے اس گروپ کے بینادی ستون کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان اداروں کے قائدین، مسلم دنیا سے مذ ہبی علماء کرام ، صحت کے تکنیکی ماہرین اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ذ مہ داران کی ایک بڑی تعداد نے اجلاس میں شرکت کی۔

 

پولیو تدارک جدوجہد کا حتمی مرحلہ

 

اجلاس کے دوران زیر بحث دیگر عنوانات میں سے ایک اہم  بات عوام الناس کو غلط فہمیوں کی دلدل میں دکھیلے جانے کی بےبنیاد مہم کو بڑی شائستگی اور دلائل کی بنیاد پر زائل کرنا تھا۔ جس میں یہ بات بڑی واضح طور پر ابھر کر سامنے آئی کہ اسلامی علماء کرام عوام میں صحت سے وابستہ مسائل  کےبارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

الازہر الشریف کے نائب، ڈاکٹرعباس شمن کا کہنا تھا کہ علظ فہمیاں عام طور پر ان فتو وں کا نتیجہ ہوتی ہیں جو غیر تجربہ کار اور اسلامی علوم میں قلیل دسترس کے حامل تدریسی ذمہ داران کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں شیرخوار بچے عمر بھر کے لیے یا تو معذوری کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں یا پھر موت کی سیاہ چادر انہیں اپنے غوش میں سمیٹ لیتی ہے۔

"الازہر الشریف کے ذمہ داران کا یہ فرض ہے کہ وہ لوگوں تک سچائی اور حقائق پر مبنی معلومات بہم پہنچائیں۔۔ ادارے کے ترتیب کردہ مختلف آگاہی پروگراموں کے تحت یہاں یہ وضاحت کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ پولیو یا دیگر مہلک بیماریوں سے بچایو اور تدارک کی ویکسینیشنز کی فراہمی کا عمل اسلامی قوانین کے عین مطابق ہے جس کا مقصد صرف اور صرف معصوم بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ بنانا ہے"، ڈاکٹر شمن کا کہنا تھا۔ 

اسلامک ایڈوائزری گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، عالمی تنظیم برائے صحت (WHO) کے ریجنل ڈائریکٹر برائے بحیرہ روم مشرقی خطہ، ڈاکتر اعلیٰ الوان کا کہنا تھا کہ آئی اے جی کے ماہرین کا ماہ جون میں حالیہ دورہ پاکستان ادارے کی مثبت اور فعال کردارسازی کی عکاسی کرتا ہے

نیشنل اسلامک ایڈوائزری گروپ (این آئی اے جی) کا پاکستان مین قومی اور صوبائی سطح کے علاوہ یونین کونسل، حتیٰ کہ عوامی/کمیونٹی کی سطح پر مقامی مذ ہبی علماء کے ساتھ مظبوط روابط اور تعلق کی بنا پر صف اول کے ہیلتھ ورکرزکو تعاون اور جانی تحفظ کی فراہمی آپکے کام اور درجہ بہ درجہ حاصل ہونے والی کامیابیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے"، انکا کہنا تھا۔

انہوں نے دونوں ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کی پولیو کے خلاف جنگ میں تعاون اور فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے یہ ایک ایسی انسان دوست جدوجہد تھی جس کی ابتداء میں کسی حد تک اسلامی ترقیاتی بینک کے جزوی کردار اور تعاون کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

"بینک نے صومالی حکومت اور اسکے شراکتی اداروں کو تکنیکی گرانٹس کی فراہمی کو یقینی بنایا تاکہ پولیو کے موذی وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے جو کہ سال 2013ء تک افریقہ کے ایک بڑے حصہ میں اپنی آماجگاہیں قائم کر چکا تھا"، یہ کہنا تھا اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر، ڈاکٹر احمد محمد علی کا۔ "بینک نے حکومت پاکستان اور اسکے شراکتی اداروں کو اضافی 100 ملین ڈالر کی مالی امداد بھی فراہم کی ہے جس کا مقصد سال 2018ء کے اختتام تک باحکمِ اللہ پولیو کےاس موذی وائرس کا ملک سے مکمل صفایا کرنا ہے"۔

علی نے اسلامک ایڈوائزری گروپ کے شراکتی اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام ادارے بالخصوص الازہر الشریف اور انٹرنیشنل اسلامک فتویٰ اکیڈمی عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ روابط کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ اقوام عالم کے مختلف خطوں بالخصوص افریقہ میں پولیو اور اس جیسی دیکر مہلک بیماریوں کے جراثیم کی ترسیل اور دوسرے خطوں میں منتقلی کے ممکنہ عمل کو روکا جا سکے۔

 

توسیعی پروگرام برائے اسلامک ایڈوائزری گروپ

 

ماں اور بچے کی صحت کی ترجیحی بنیادوں پر تحفظ کے ساتھ ساتھ یہاں زچگی کے دوران زچہ بچہ کی اموات کی شرح میں کمی لانے کے لیے اقدامات اٹھانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اطہار اپریل 2016ء کو استنبول میں منعقدہ 13ویں اسلامی سمِٹ کانفرنس میں اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے سربراہان نے صحتی امور پر اپنی اپنی آراء پیش کرتے ہوئے کیا۔

"پولیو کےحفاظتی قطروں کی بچوں کو فراہمی کے عمل میں بہتری کے اس کامیاب تجربہ کے بعد اسلامک ایڈوائزری گروپ اپنی بہتر ساکھ کے ساتھ اسلامی ممالک میں تحفظ صحت کی ترویج میں انتہائی مدد گار ثابت ہوگا۔ جو کہ ابھی بھی اموات اور معذوری کی شرح کو کم سے کم سطح پر لانے کے لیے اہم ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے"، سفیر محمد نعیم خان، اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل او آئی سی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے سیکرٹری جنرل، ایاد امین مدنی کا پیغام آئی اے جی کے فعال اراکین تک پہنچایا۔

ان سفارشات کی روشنی میں آئی اے جی کا اپنے اعلامیہ میں کہنا تھا، "اس گروپ کے قیام کی ضرورت اس وجہ سے محسوس کی گئی کہ ہر کنبہ کے افراد کو صحت کی بہتر سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے خاص طور پر ماں اور بچے کی صحت، ساتھ ہی ساتھ اس گروپ کے انتظامی ڈھانچے اور خدمات کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے ماں اور بچے کو دیگر ممکنہ لاحق امراض سے تحفظ فراہم کیا جائے"۔ 

 

معلوماتی پس منظربنام ایڈیٹر 

 

پولیو ایک ایسا موذی وائرس ہے جو ہزاروں سالوں سے شیرخوار اور نوعمر بچوں کو یا تو مستقل معذوری یا پھر ابدی نیند سے دوچار کرتا چلا آ رہا ہے۔ سال 1988ء کی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں رکن ممالک کے وزراء برائے امور صحت نے پہلی مرتبہ پولیو وائرس کو شکست دینے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ فیصلہ کیا۔ اس وقت دنیا کے 125 ممالک میں رپورٹ ہوئے پولیو کیسز کی کل تعداد 000،350 کے لگ بھگ تھی۔

آج پولیو کیسز کی تعداد تاریخ کی کم ترین سطح پر آن پہنچی ہے جیسا کہ سال 2016ء میں کل 19 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 13 پاکستان جبکہ 6 کیسز کی افغانستان میں تشخیص ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ 1988ء کے مقابلے میں آج پولیو کیسز میں ٪9۔99 کی نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ تاہم پولیو وائرس کی یہ آخری دو بقایا رہ جانے والی آماجگاہیں یعنی پاکستان اور افغانستان سے اس موذی وائرس کا تدارک ایک چیلنج بن چکا ہے اور ان ممالک کو پولیو سے مکمل پاک کرنے کے لیے شراکتی اداروں کو تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مشترکہ طور پرخصوصی جدوجہد کرنا ہوگی۔

پولیو کے تدارک میں ایک بار مکمل کامیابی تاریخ میں وہ دوسرا موقع ہو گا جب اس موذی جان لیوا مرض کا اقوام عالم سے خاتمہ کا سہرا صرف اور صرف انسانی جدوجہد کے سر ہو گا۔ پہلی کامیابی 1980ء میں اس وقت سامنے آئی تھی جب عالمی ادارہ صحت کی قیادت میں عالمی سطح پر ویکسینیشن مہم کے ذریعے چیچک کی بیماری کا دنیا سے ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا گیا تھا۔

پولیو وائرس کا خاتمہ دیگر مہلک بیماریوں کی نسبت اس لیے بھی قدرے آسان فہم ہے کیونکہ یہ مرض ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل نہیں ہوتا، صرف انسانوں کو متاثر کرتا ہے، ماحول میں زیادہ دیر اس کا ارتقاء ممکن نہیں اور اس سے بچائو کے لیے موثر اور محفوظ ویکسیسن با آسانی دستیاب ہے۔