پشاور: خیبر پختونخواہ کے بہت سے علاقوں میں مذہبی عقائد اور سیاسی وابستگی آج بھی عوامی رائےعامہ پر گہرا اثر و رسوخ رکھتی ہے ۔یہاں امام مسجد ثقافتی اور مذہبی معلومات کا منبہ تصور کیا جاتا ہے اور متنازعہ معاملات پر رہنمائی کے لیے بھی دینی قائد سے ہی رجوع کیا جاتا ہے۔
امام عا صم اپنے علاقے میں موجود چند حلقوں اور افراد کے مابین پولیو ویکسین سے متعلق بڑھتی ہوئی غلط فہمیوں سے اچھی طرح باخبر ہیں۔ پولیو کے خلاف جاری مہم کے بارے میں پیدا شدہ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے وہ روزمرہ کی پانچوں نمازوں اور جمعہ کے خطبے میں موجود نمازیوں کو 5 سال سےکم عمرکےبچوں کوپولیو کےقطرے پلانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
"ہم جمعہ اور روزمرہ کی پانچوں نمازوں کے دوران لوگوں کو اس معاملے پر دینی تعلیمات کی روشنی میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں"،ایسا انکا کہنا ہے۔
یہاں قریب ہی ایک یونین کونسل پاجاگئی میں ، مولانا عبدالکریم دینی تعلیمات کی ایک درسکاہ مدرسہ اسلامیہ کے سربراہ ہیں۔ وہ پولیو کے تدارک کے لیے جاری مہم کے بڑے پرعزم معاون ہیں اور بچوں کو پولیو سے بچائو کے قطرے پلوانے کیلئے والدین کو قائل کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں
پشاوراوراس کےگردونواح میں مذہبی رہنمائوں کی جدوجہد انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔
یونین کونسل پاجاگئی کےعلاقے فقیرکلےمیں، لیڈی ہیلتھ ورکر کی سربراہی میں پولیو کے قطر ے پلانے والی ٹیم نے لوگوں کے گھروں کا رخ کیا۔ بہت سے خاندان کے افراد بڑے شوق سے اپنے بچوں کو حفاظتی قطرے پلوانے کے خواہشمند تھے۔ویکسینیشن کی فراہمی کے بعد ہر بچے کے ہاتھ پر سیاہی کا ایک نشان لگایا گیا۔ لیڈی ہیلتھ ورکر نے پولیو کے قطرے پینے والے تمام بچوں کی تعداد، انکے نام اوررہائشی پتے کا اندراج کیا اور چاک کے ذریعے گھر کے دروازوں پر نشان کندہ کیے تاکہ ویکسینیشن سے مستفید ہونے والے بچوں کا ریکارڈ محفوظ کیا جا سکے
ڈاکٹر نور خان، میڈیکل آفیسر برائے بنیادی مرکز صحت فقیرکلے کا کہنا تھاکہ،"ابتداء میں جب ہماری لیڈی ہیلتھ ورکرز فیلڈ میں جاتی تھیں انہیں کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا"۔لیکن اب صحت سے وابستہ افراد، یونیسیف، ڈبلیو ایچ او اور علماء (مذہبی رہنما)کی جدوجہد سے عوام کی سوچ تبدیل ہو چکی ہے۔
سازی اور انکے علاقے میں اثر ورسوخ کو پوری طرح سے بروئے کار لانے میں یونیسیف اپنا کرادر جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزارت مذہبی امور کے تعاون سے یونیسیف اور دیگر اشتراکی اداروں نے ہر نقطہ نظر سے تعلق رکھنے والے ملک بھر سے مذہبی علماء کے لیے ایک معلوماتی نشست کا انعقاد کیا تا کہ ان کےغیر مشروط تعاون کےذریعے پاکستان سے پولیو کےمکمل خاتمے کو ممکن بنایا جا سکے