بین الاقوامی تنظیم برا ئے صحتی امور، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو-ایچ-او) کے مطابق پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی اب "پروگرام برائے انسداد پولیو" کی توجہ کا اہم ترین مرکز بنا ہوا ہے ۔

پولیو کے خاتمے کے لیے دستیاب حالات و واقعات عالمی سطح پر کبھی بھی اتنے سازگار نہیں رہے لیکن پھر بھی پاکستان اور افغانستان میں موجود عالی اداروں کی اراکین مقامی لوگوں کے اشتراک سے بچوں پولیو وائرس سے محفوظ بنانے کی جدوجہد میں روزانہ کی بنیادوں پر مصروفِ عمل ہیں۔

ٹیکنیکل ایڈ وائزری گروپ کے اراکین نے اپنی ایک دو روزہ مجلس منعقدہ 4-5 جون بمقام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جو کہ عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہے، پولیو وائرس کے پھیلائو کی روک تھام کے لیے واپس اپنی راہ پر گامزن ہو چکا ہے ۔

2014میں عالمی سطح پر مجموعی طور پرسامنے آنے والے پولیو کیسز میں سے٪80 کی تشخیص پاکستان میں موجود بچوں میں کی گئی۔ 2015میں ےی تعداد ٪26 تھی جو کہ 2014 کے مقابلے میں ٪72 کم ہے ۔ پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے پاکستان، شمال مغربی علاقوں پشاور، خیبرایجنسی، فاٹااور وسطی پنجاب کے کچھ حصوں مین موجود دشواریوں کے باوجود پولیو سے پاک مستقبل کے لیے کوششیں کر رہا ہے

گذشتہ کچھ ماہ کے دوران پولیو کے قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی اور انہیں پولیو سے بچائو کے قطرے پلانا بھی کامیابی کی کنجی ہے بجائے اس کے کہ پولیو سے بچائو کی مہم سے مستفید ہونے والے بچوں کی تعداد کو پیش نظر رکھا جائے

ٹیکنیکل ایڈوائزی گروپ کے اراکین اس امر سے مطمئن ہیں کہ تمام بڑے علاقوں بشمول جنوبی وزےرستان، پشاور اور کراچی جیسے بڑے شہروں سے پولیو سے بچائو کی مہم کے دوران قطر ے پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اس طر ح دہشت گردوں کے خلاف جاری ملٹری اپریشن کی وجہ سے شمالی وزیرستان سے بڑی تعداد میں لوگوں کے انخلاء کو بھی قطرے پینے سے محروم رہ جانے والے بچوں کی ویکسینیشن لے لیے ایک اہم موقع قرار دیا جارہا ہے۔

ہر علاقے کے لیے اختراع اور مقامی لوگوں سے مزید روابط کو پولیو سے بچائو کے قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد کو صفر تک لانے میں بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔

ٹیکنیکل ایڈوائزی گروپ کے خیال میں جدید اصولوں کو اپنانے جیسا کہ IPVطرز کی پولیو ویکسین کو ضمنی حفاظتی سرگرمیوں میں شامل کرنے، پولیو ورکرزکی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات اور ویکسینیشن کے علاوہ صحتی کیمپ اور دیگر اقدامات اپنانے سے خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں۔

پاکستان کے پاس پولیو وائرس کا پھیلائو روکنے کے لیے تمام مطلوبہ حکمت عملی موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے اس حکمت عملی کے اطلاق کو یقینی بنایا جائے تا کہ پولیو وائرس کے پھیلائوکے موسم میں مثبت نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ مجوزہ حکمت عملی کے اہم جزیات میں حکومت کی جوابدہی، لوگوں کا اعتماد، ہیلتھ ورکرز کی حفاظت، برادری کے معز زین کی دلچسپی، جدید طریقوں کا استعمال اوردشوار گزارعلاقوں میں مدافعتی عمل کو تیز کرنے کے لیے IPV ویکیسن کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانا شامل ہیں۔

چند مخصوص علاقوں میں سلامتی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ جس کی وجہ سے پولیو مخالف مہم تاخیر اور بعض اوقات منسوخی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیےغیرروایتی طریقے جیسا کہ مقامی خواتین رضاکار اور صحتی کیمپ ایک کارگر حربہ ثابت ہوتے ہیں۔

حامد جعفری ، دائریکٹر پولیو آپریشنز اینڈ ریسرچ ، ڈبلیو-ایچ-اودلیل کے ساتھ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سیاست اور تصادم کو پولیو مہم کے آڑے نہیں آنے دیا جائے گا کیونکہ مہم کے آخری مرحلے پرایک دروازے کے پیچھے کھڑی ماں یا باپ اپنے بچوں کے لیے پولیو کے خلاف تحفظ چاہتا ہے

پاکستان کےنیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان کے زیر اہتمام ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے جس میں پولیو وائرس کے پھیلائو کو فوری روکنے کا عمل جو کہ شاید ممکن نہیں کی بجائے مختلف مراحل میں جیسے ابتدائی طور پر پولیو وائرس کی تشخیص، عدم پھیلائو کی ترکیب اور بالآخر پولیو کا مکمل خاتمہ درجہ بہ درجہ شامل ہیں ۔ ایک مرتبہ پولیو وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے بعد مستحکم مدافعتی نظام کا قیام اور معمول کے مدافعتی عمل کو یقینی بنانے سے طویل دورانیے کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں

اس پروگرام کے تحت اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ اس معاملے پر افغانستان سے بھی مسلسل رابطہ رکھا جائے کیونکہ پاک-افغان سرحد کے دونوں جانب پولیو وائرس کی آماجگاہوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ روزی کے حصول کے لیے عارضی بنیادوں پر خدمات سرانجام دینے والا مزدور طبقہ، حجاج کرام اور وہ لوگ جو سخت موسمی حالات کے پیش نظر نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں، ان لوگوں کو صحت کی سہولیات بہم پہنچانے کے لیے 2450 کلومیٹر طویل پاک-افغان سرحد پر عارضی طور پر پولیو ویکسینیشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں ۔

ڈاکٹر جعفری کہتے ہیں: پولیو مہم کے زمر ے میں حالیہ کامیابی نہایت حوصلہ افزاء ہے ۔ اب یہ سالوں نہیں بلکہ مہینوں کی بات ہے کہ پاکستان سے جلد پولیو کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرملک میں جاری پولیو مخالف پروگرام میں اس بات کو یقینی بنا لیا جائے کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے پینے سے محروم نہ رہ جائے تو پاکستان اس بات کا احساس دلا سکتا ہے کہ اب دنیا سے پولیووائرس کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے