اسلام آباد، 29 جنوری 2016:  پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے عالمی ماہرین صحت پر مشتمل تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) کا دو روزہ اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں اختتام پذیر ہو گیا۔

وزیر برائے قومی صحت کی خدمات، سائرہ افضل تارڑ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "پولیو کے خاتمے کے لئے ہمارا عزم مستحکم ہے اور ہم اس پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ ہم اپنے مضبوط سیاسی عزم اور اجتماعی قومی سوچ سے اس مرض کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیں گے۔"

انہوں نے کہا کہ "گزشتہ سال حکومت پاکستان اور پولیو کے خاتمے کے عالمی پروگرام (GPEI) کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لئے پروگرام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے قابل ذکر کوششیں کی گئی ہیں اور پولیو کے قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کو قطروں کی فراہمی یقینی بنانے کی مثالی کوششوں سے مجموعی صورت حال میں قابل قدر بہتری آئی ہے۔"

پولیو کے خاتمے کے بارے میں وزیر اعظم کی فوکل پرسن، سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ "پاکستان نے پولیو کے خاتمے کے لئے ایک لمبی دوڑ میں حصہ لیا ہے، اور اب منزل بہت قریب نظر آ رہی ہے۔ ہمیں اس دوڑ میں کامیابی کے لئے لمبی جست لگانا ہو گی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اپنے تکنیکی، آپریشنل اور ترقیاتی شریک کاروں کی مدد سے اپنے ملک کو پولیو کے خاتمے کا تاریخی دن دکھانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور پولیو کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کرنے کے لئے ہم افغانستان میں اپنے ہم منصب لوگوں کے ساتھ مل کر موثر کام کر سکتے ہیں۔"

اجلاس کے اختتام پر TAG چیئر، جین مارک اولیو (Jean Marc Olive) نے اپنی معلومات اور تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام صوبوں اور اضلاع میں SIAs کے مجموعی بہترمعیار کے حصول، اور محروم رہ جانے والے بچوں کی تلاش اور انہیں حفاظتی قطرے پلانے کی جانب توجہ مبذول کرنے میں پروگرام کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاس کے بعد سے، خصوصاً تمام سطحوں پر قیادت، انتظامیہ، نگرانی اور احتساب کے حوالے سے پروگرام کی کارکردگی قابل ذکر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ پولیو مہمیں صف اول کے کارکنوں کے لئے ایک حفاظتی اور محفوظ ماحول میں چلائی جائیں، سیکورٹی فورسز کا عزم اور جذبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے پروگرام کے مواصلاتی جز کی کامیابی اور قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں کمی میں اپنا کردار ادا کرنے پر پولیو پروگرام کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے پروگرام کے تمام پہلوؤں میں گہرے روابط کے اشتراک اور قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کی نشان دہی اور ان کی تعداد میں کمی کی کوششوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ TAG چیئر نے انتہائی خطرے سے دوچار یونین کونسلوں میں معیار اور کوریج کی بہتری کے لئے کمیونٹی کے تحفظ کے لئے مسلسل ویکسی نیشن (CCPV) جیسی حکمت عملیوں کو متعارف کرواانے کی بھی تعریف کی۔

TAG کا اجلاس اس نتیجے پر پہنچا کہ پولیو کے پھیلاؤ کے روکنے کا عمل حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن یہ کام اس وقت تک خطرے سے خالی نہیں جب تک کہ خصوصاً انتہائی متاثرہ علاقوں میں مدافعتی خلا کو مزید کم نہیں کیا جاتا۔

"پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت روکنے کی سب سے زیادہ ضرورت کراچی میں محسوس کی جا رہی ہے۔ اس شہر میں پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی اور ملکی وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔"

TAG نے ملک کے لئے بہت سی اہم سفارشات مرتب کیں، ڈپٹی کمشنروں کی شمولیت کو مزید بڑھانے پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی، تاکہ خراب کارکردگی ظاہر کرنے والے اضلاع سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے انتہائی متاثرہ علاقوں اور خصوصی عملی منصوبوں پر توجہ کے عمل کو مضبوط کیا جا سکے۔

"اگلے چار ماہ میں کراچی، قلعہ عبداللہ، خیبر، پشاور اور سکھر میں پولیو وائرس سے ظاہری طور پر انتہائی متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ حفاظتی قطروں اور ٹیکوں کی اعلیٰ معیاری سرگرمیاں جاری رکھنے پر کڑی توجہ دینی چاہیئے۔"

TAG نے محسوس کیا کہ آئندہ چند ماہ میں وائرس کی منتقلی کا کھوج لگانے کے لئے کمیونٹی کی نگرانی اور ماحولیاتی نگرانی میں بہتری لانا بہت ضروری ہے جب کہ غیر CCPV علاقوں میں کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے CCPV میں حاصل کردہ تجربے کو استعمال میں لانا چاہیئے۔

TAG نے کہا کہ پاکستان آئندہ مہینوں میں 2016-2017 کے لئے قومی ہنگامی عملی منصوبے (NEAP) کے لئے تیاریاں شروع کرے اور 2016 کے وسط میں کارکردگی کے جائزے کے لئے تیار رہے۔

حکومت پاکستان نے بھی ان اہم ڈونرز کا شکریہ ادا کیا جو پروگرام کے لئے دل کھول کر عطیات دے رہے ہیں۔ ان میں یہ ڈونرز شامل ہیں: جاپانی بین الاقوامی تعاون ایجنسی (JICA)، کینیڈا کی حکومت، جرمنی کی حکومت، اسلامی ترقیاتی بینک، جاپان کی حکومت، یو ایس ایڈ، عالمی بینک، متحدہ عرب امارات کی حکومت، سعودی عرب کی حکومت، بل اور میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن سمیت GPEI کے شراکت داران، اور روٹری انٹرنیشنل۔