
از: سدرہ روغے
کراچی، سندھ، نومبر 18، 2015: اورنگی ٹاؤن کی فرید کالونی میں رہائش پذیر نور عالم بی بی کہتی ہے، "صحت کیمپ کے طفیل، میں اپنی لمبی بیماری کے بارے میں نہ صرف ایک ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے قابل ہوئی بلکہ مجھے اپنے 6 ماہ، 2 سال اور 3 سال کی عمر کے تین بچوں کو بھی پولیو کے حفاظتی قطرے پلوانے میں مدد ملی۔"
صحت کمیپس نہ صرف کراچی کی نظر انداز کی گئی کمیونٹیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے مرکزی جگہ بن چکے ہیں بلکہ ان بچوں کے لئے پولیو کے قطرے پلوانے کے لئے بھی اہم ثابت ہو رہے ہیں جنہیں روٹین، قومی اور ذیلی قومی مہموں میں پولیو کے قطرے نہیں پلوائے جا سکے۔ ان بچوں میں نوزائیدہ بچے بھی شامل ہیں۔
رواں سال کے اوائل میں صحت کیمپوں کے قیام کے بعد سے گزشتہ گیارہ ماہ میں 92,000 سے زائد بچوں کو کراچی میں قائم 939 کمیپوں میں پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔
ملک کا واحد بین الاقوامی شہر، کراچی پاکستان کے ان 12 اضلاع میں شامل ہے جہاں اب تک پولیو گردش میں ہے۔ حالانکہ ملک نے تمام متاثرہ ممالک کی نسبت کم انکار کی کم سے کم شرح (0.13 فی صد) حاصل کر لی ہے، تاہم خیبر پختون خواہ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں، کوئٹہ اور کراچی کی کچھ یونین کونسلوں میں کچھ علاقے ایسے رہ گئے ہیں جہاں انکار کا سامنا ہے۔
ڈیٹا میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ انکار کرنے والوں کی اکثریت نے ثقافتی یا مذہبی عقائد کی بنیاد پر نہیں بلکہ حفظان صحت کی ان بنیادی خدمات کی فراہمی کی طلب کی وجہ سے یہ انکار کیا تھا جو کراچی کے ان علاقوں میں نا پید تھیں۔
اس مطالبے کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے تمام صوبائی دارالخلافوں میں پولیو کے خاتمے کے لئے ایمرجنسی آپریشن سینٹرز (EOC) تشکیل دیئے اور پاکستان بھر میں نہایت خطرے والے زونز میں 2,500 صحت کیمپس قائم کئے۔ ایسا ہی ایک کیمپ کراچی کے فرید ٹاؤن میں واقع ہے جو کمیونٹیوں کے ساتھ مل کر ان بچوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے اعتماد سازی کے ایک موثر طریقہ کار کی مدد کر رہا ہے جو پولیو مہموں میں حفاظتی قطرے پینے سے مسلسل محروم رہے ہیں یا جنہیں انکار کے کیسوں کی وجہ سے حفاظتی قطرے نہیں پلوائے گئے۔
ان صحت کیمپوں میں صرف پولیو کے قطرے ہی نہیں پلائے جاتے بلکہ بنیادی حفظان صحت کی رسائی کو فروغ اور وسعت دی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ حفظان صحت کی ناقص حالتوں میں رہنے والی ان کمیونٹوں میں انتہائی ضروری اور اعتماد کا رشتہ پیدا کرتے ہیں۔
صحت کیمپ کے زونل سپروائزر، بلال محمد نے کہا، "ہم نے سوچا تھا کہ ان کی ضرورت جائز ہیں، لہٰذا ہم نے اس کام کا آغاز کر دیا، اور یہ سوچ درست ثابت ہوئی۔" بلال نے بتایا کہ اب لوگ اپنے بچوں کے ساتھ آنکھوں کی بیماری سے لے کر دستوں کی بیماری تک ہزارہا مسائل کے لئے صحت کیمپوں میں ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں اور کارکنان صحت اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کے بچوں کو پولیو کے ضروری قطرے پلا دیئے گئے ہیں۔
ان حساس علاقوں میں جہاں پولیو وائرس کے حملوں کا خطرہ رہتا ہے، یہ کیمپ عموماً علاقے کی کسی بڑی ہستی کے گھر یا اس کی جانب سے فراہم کردہ جگہ پر لگایا جاتا ہے، جو کارکنان صحت کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ یہ کیمپ صبح 8 بجے سے دوپہر 12 تک کام کرتا ہے۔
ان پورے اوقات میں کیمپ کے باہر مردوں اور عورتوں کی ایک لمبی قطار دیکھی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر کے کیبن سے باہر آنے والے خوش اور مسکراتے ہوئے چہروں کو ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کیوں کہ ان سے کوئی مشورہ فیس نہیں لی جاتی بلکہ انہیں مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں اور اگر کسی مریض کو ضرورت ہو تو نظر کا چشمہ بھی فراہم کر دیا جاتا ہے۔
عموماً دو زنانہ کارکنان صحت ڈاکٹر کے کیبن کے باہر تعینات ہوتی ہیں اور چوکس رہتے ہوئے ڈاکٹر کے پاس آنے والے ہر خاندان، خصوصا جو بچوں کو ساتھ لے کر آتے ہیں، کو خوش آمدید کہتی ہیں۔ مشاورت سے پہلے اور بعد میں، یہ کارکنان صحت والدین کے ساتھ ایک دوستانہ ماحول میں بات چیت کرتی ہیں اور پولیو ویکسی نیشن کے بارے میں معلومات حاصل کرتی ہیں۔ اگر یہ معلوم ہو جائے کہ بچوں کو اب تک پولیو کے قطرے نہیں پلوائے گئے تو وہ اس موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہیں اسی وقت ان بچوں کو حفاظتی قطرے پلا دیتی ہیں۔ زیادہ تر والدین کسی پریشانی کا اظہار نہیں کرتے یا کوئی اعتراض نہیں کرتے بلکہ اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلا دیئے گئے ہیں اور وہ یہ وعدہ کر کے جاتے ہیں کہ وہ اگلے راؤنڈ میں مقرر وقت پر پولیو کے قطرے پلوانے کے لئے اپنے بچوں کو واپس لائیں گے۔
کارکن صحت نادیہ ریاض نے کہا کہ "یہی ایک طریقہ ہے جو یہاں پر کارگر ثابت ہوتا ہے۔ جب آپ ایک پرسکون انداز میں ماں کے ساتھ اس کے شوہر کے سامنے بات کرتے ہیں، تو انہیں قائل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔"
"چونکہ ہم دوسری بیماریوں کے لئے دوائیں فراہم کرتے ہیں، اس لئے درحقیقت ایک عام ڈاکٹر کی حیثیت سے کمیونٹی میں شامل ہو جانا اور پھر انہیں اس بات پر قائل کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بھی پولیو کے خلاف حفاظتی قطرے پلوائیں۔"