ڈاکٹررانا محمدصفدر

 

پولیو کے خاتمے کی عالمی کوششوں کی جانچ کرنے والے ادارے انڈپنڈینٹ مانٹرنگ بورڈ نے '' اعلیٰ ترین کارکردگی دکھانے کا وقت''کے عنوان سے اپنی تازہ ترین رپورٹ کا اجراء کیا ہے۔آسانی کے لیے  یہ سمجھ لیں کہ پولیو کے خاتمے کے لیے دنیا کو اس سے پہلے اتنا اچھا موقع کبھی بھی میسرنہیں ہوااور اب اس ہدف کے حصول کے لیے پاکستان اور افغانستان میں پولیو وائرس کے باقی ماندہ محفوظ مقامات کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔

اس کام کی تکمیل کے لیے پاکستان پروگرام کے پاس اس وقت تمام تر مطلوب اسباب موجود ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اس کے پاس پورے طور پر آگاہ اور فکرمند والدین ہیں کہ جو جب بھی ویکسین فراہم کی جاتی ہے اس کو قبول کرتے ہیں اور ان کو یہ معلوم ہے کہ اپنے بچوں کو مستقل معذوری سے مکمل طور پر محفوظ رکھنے کے لیے یہی ایک واحد طریقہ ہے۔ دوئم یہ کہ اس کے پاس عملی میدان میں کام کرنے والے کارکنان کا ایک ایسا نیٹ ورک موجود ہے جنہیں اپنی مقامی آبادیوں میں قبولیت اور اعتماد حاصل ہے۔ ان کارکنوں کو بہتر طور پر آگاہی اور معاونت فراہم کرنے کے لیے طبی برادری، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں اور میڈیا کا تعاون بھی حاصل ہے۔سب سے اہم یہ کہ اس وقت ایک بااختیار سیکورٹی کا ڈھانچہ موجود ہے جو عملاً پاکستان کے تمام بچوں تک رسائی میں معاونت کرتا ہے اور عملی میدان میں کام کرنے والے کارکنوں کے تحفظ کوبھی یقینی بناتا ہے۔

وہ تمام تر ادارے اور افراد جو پولیو کے خاتمے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اب انہیں قومی اور صوبائی سطحوں پر ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے نیٹ ورکس کا تعاون بھی حاصل ہے۔ یہ مراکز شراکتداروں کے ساتھ 'ایک ٹیم' کے طریقہ کار کا اطلاق کرتے  ہوئےمختلف قسم کے  قومی اور بین الاقوامی اداروں جیسا کہ نیشنل لیبارٹری، سروے آف پاکستان، ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ریلویز اتھارٹی کو اس قومی فریضہ میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کا کام کرتے۔ہم نے جتنی بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں یہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سیاسی لیڈرشپ کے عزم اور نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان کی تیاری اور اطلاق کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔

ہمارے پورے معاشرے کی مشترکہ کاوشوں کے بعد اب یہ وائرس انتہائی شدید دباؤ کا شکار ہے۔اب یہ صرف باقی ماندہ تین محفوظ مقامات پر سکڑ کر رہ گیا ہے – جن میں خیبر-پشاور  گزر گاہ، کراچی اور کوئٹہ بلاک شامل ہیں۔گذشتہ دس برسوں کے دوران ہم یہاں تک پہلے بھی تین مرتبہ پہنچ چکے ہیں- لیکن کام کو مکمل طور پر ختم نہیں کر پائے۔ہر مرتبہ وائرس کو ایسے علاقے مل جاتے تھے جہاں کچھ بچے ویکسین کے بغیر رہ جاتے تھے۔اس مرتبہ اس کو بل آخر ختم کرنے کے لیے یہ لازمی ہے کہ ہم اپنی کامیابیوں کو جاری رکھیں۔اب یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم  وائرس کو ان محفوظ مقامات سے  پاکستان بھر میں اور اس سے باہر پولیو  پھیلانے نہ دیں۔ہمیں اپنے کام میں چوکس رہنے اور تمام دستیاب توانائی اور اسباب کو استعمال کرنے اور عزمِ مصمم  کی ضرورت ہے تاکہ ہم ہمیشہ کے لیے وائرس کو شکست دے پائیں۔پولیو وائرس کے لیے باقی ماندہ محفوظ مقامات پر ہمیں اپنی کارکردگی کو اور بہتر بنانے کی شدید ضرورت ہے۔کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ ہماری توجہ اپنی حکمتِ عملی پر مرکوز رہے، تاہم اپنے بچوں کو ویکسین پلانے کے خواہش مند والدین اور ان کے گھروں پر ویکسین فراہم کرنے والے ویکسینٹروں کی مقامی سطح پر معاونت کے لیےیہ بھی ضروری ہے کہ ہماری حکمتِ عملی میں ضروری تبدیلیوں کے لیے لچک بھی موجود ہو۔

ماضی میں اس پروگرام کے  مقامی پلان میں شامل ہر بچہ تک پہنچنے اور اس کو ویکسین پلانے کے حوالے سے ایک اچھا ریکارڈ رہا ہے۔ حالیہ اقدامات سے ایسے ہزاروں بچوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو پچھلے مقامی پلان میں شامل نہیں تھے۔ اندازاً دس لاکھ ویکسین نہ پینے والے (یا مستقل طور پر رہ جانے والے )  ہر ایک بچے کو ڈھونڈنااور اس کے بعد انہیں ویکسین پلانا انتہائی ضروری ہے۔ہر مہم کی کامیابی کا بنیادی جزو والدین اور ویکسینیٹرکے درمیان گھر کی دہلیز پر ہونے والا رابطہ ہے کیوں کہ: ہر مکمل شدہ ویکسینیشن والدین اور ویکسینیٹر دونوں کے لیے کامیابی کی علامت ہے۔  پولیو کے خاتمے کے کاوشوں میں جن بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ہوگا ان میں نئی بھرتیاں کرنا، ان کو برقرار رکھنا، ان کی استعداد کو بہتر بنانا اور مقامی آبادی کے لیے قابلِ قبول ویکسینٹروں کی تقرری  کرناشامل ہیں۔

عملی مسائل کو حل کرنے اور رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے ہم نے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر  مثالی سیاسی عزم اور انتظامی تعاون دیکھا ہے۔ہم نے یہی قابلِ تحسین لیڈرشپ ڈسٹرکٹ اور یونین کونسل کی سطح پر بھی دیکھی ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ ہم اس ذہنی رجحان کو ہر سطح پر فروغ دیں۔

ہم دیگر چیلنجوں کو بھی کم اہمیت نہیں دیتے لیکن ہمیں پولیو کو زیرو تک لے جانے والے ہمارے ہدف سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ہمارے بچوں کی بھلائی کے لیے اس قومی فریضہ میں تعاون کے لیے ہم ہر ایک کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صفدر رانا سرویلیئنس اینڈ ریسپانس ڈیویژن این آئی ایچ اور نینشنل کوآرڈینیشن آف ایمرجنسی آپریشن سینٹر فار پولیو ایریڈیکیشن ان پاکستان کے سربراہ ہیں۔ عوامی صحت کے وسیع تر قومی اور بین الاقوامی تجربہ رکھنے کے باعث ، ان کو ایمرجنس انفیکشس ڈیزیز ایپی ڈیئومالاجی کے ساتھ ساتھ ہیلتھ میٹرکس اینڈ اویلوئشن کے انتہائی قابلِ قدر میدانوں میں تخصص حاصل ہے۔ مصنف سےdrsafdar64@yahoo.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔