اسلام آباد()پاکستان کے12بڑے شہروں کے گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔22سے25اپریل تک ہونے والی پولیو مہم میں تمام بچوں کو پولیو قطرے پلا کر اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔والدین اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق لاہور،راولپنڈی،پشاور،مردان،بنوں، وزیرستان،کوئٹہ،قلعہ عبداللہ،کراچی،حیدر آباد،قمبر اور سکھر کے گٹر کے پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

وزیراعظم کے معاون برائے انسداد پولیو بابر بن عطا نے کہا ہے کہ ہر مکتبہ فکر کے لوگ پولیو وائرس کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں اور پولیو وائرس کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے میں پولیو ورکرز کا ساتھ دیں،گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی خطرے کی گھنٹی ہے۔22اپریل سے شروع ہونے والی پولیو مہم میں اپنے بچوں کو انسداد پولیو قطرے ضرور پلائیں۔

جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس سال کی دوسری ملک گیر مہم کا آغاز22اپریل سے ہورہا ہے،اس مہم میں2لاکھ60ہزار پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں جس میں3کروڑ80لاکھ بچوں کو انسداد پولیو قطرے پلانے کا ہدف ہے

جاری بیان کے مطابق پچھلے مہینے59مقامات سے نمونے حاصل کیے گئے۔نمونے لینے کیلئے طریقہ کار آبادی کے سائز،سماجی و معاشی معیار اور گٹر کے پانی کے نظام کی بنیاد پر وضع کیا گیا۔نمونے صحت کے صوبائی محکموں کی نگرانی میں لیے گئے اور پھر ان نمونوں کے ٹیسٹ قومی ادارہ صحت اسلام آباد کے پولیو لیبارٹری میں کیے گئے۔

ایمرجنسی آپریشنز سنٹر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ان شہروں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد میں قوت مدافعت مطلوبہ معیار سے کم ہے۔ جو کسی بھی وجہ سے پولیو قطروں سے محروم رہ گئے ہیں۔پولیو قطروں سے محروم بچے نہ صرف اپنے لیے خطرہ ہیں بلکہ گٹر میں وائرس کے پھیلاؤ سے دوسرے بچوں کیلئے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔

ایمرجنسی آپریشنز سنٹر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق گٹر کے پانی میں پولیو وائرس کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ان شہروں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد میں قوت مدافعت مطلوبہ معیار سے کم ہے۔ جو کسی بھی وجہ سے پولیو قطروں سے محروم رہ گئے ہیں۔پولیو قطروں سے محروم بچے نہ صرف اپنے لیے خطرہ ہیں بلکہ گٹر میں وائرس کے پھیلاؤ سے دوسرے بچوں کیلئے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔

نوٹ برائے ایڈیٹرز

پولیو سے پانچ سال کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں اس سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو قطرے پلا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلا کر اس موذی وائرس کو پھیلانے سے بچایا جاسکتا ہے۔بار بار پولیو قطرے پلانے سے دنیا کے تقریباً تمام ممالک پولیو فری ہو چکے ہیں۔انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہمارا قومی فریضہ ہے۔