اسلام آباد(06فروری2020)
وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے لوگوں کو صحت سے متعلقہ معلومات کی فراہمی کیلئے صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166 کا آغاز کردیا ہے۔ اس ہیلپ لائن سے عوام فوری طور پر پولیو، حفاظتی ٹیکہ جات کے بارے میں فوری معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
صحت تحفظ ہیلپ لائن کے آغاز کے موقع پر وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ صحت تحفظ ہیلپ لائن حکومت پاکستان کا ایک احسن اقدام ہے جس سے پاکستانی عوام فوری طور پر صحت سے متعلقہ معلومات حاصل کرسکیں گے۔ جس سے پولیو، حفاظتی ٹیکہ جات اور دوسری بیماریوں سے متعلقہ پروپیگنڈا اور افواہوں کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے اس امر کا اظہار کیا کہ اس طرح کی ہیلپ لائن سے والدین کا اعتماد بحال ہوگا جس سے صحت کے مسائل میں بڑی حد تک بہتری آئے گی۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اسلام آباد میں قائم اپنی نوعیت کی منفرد ہیلپ لائن سے عوام پولیو اور صحت سے متعلقہ دوسری معلومات حاصل کرسکیں گے۔ خصوصی ماہرین کی ٹیم ہمہ وقت صحت سے متعلق لوگوں کے سوالات کے جوابات دینے کیلئے موجود رہے گی۔
کوآرڈینیٹر نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے وزیراعظم کے معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کو صحت تحفظ ہیلپ لائن کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
صحت تحفظ ہیلپ لائن کے آغاز کے موقع پر کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا صفدر نے کہا کہ ہیلپ لائن پر لوگوں کو انگریزی، اردو اور مقامی زبانوں میں معلومات کی فراہمی کیلئے صبح 8 سے رات 12 بجے تک متعلقہ عملہ موجود رہے گا۔ اس ہیلپ لائن کی منفرد بات یہ ہے کہ ویکسین سے رہ جانے والے بچوں کی رپورٹ اسی وقت صحت کے متعلقہ حکام کو بھیج دی جاتی ہے جو فوری طور پر اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے بچوں کو ویکسینیشن کی فراہمی یقینی بناتے ہیں۔
صحت تحفظ ہیلپ لائن کے آغاز سے پہلے ڈونرر کو بریفنگ دینے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لئے ڈونر اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور پولیو کے خاتمے کے سلسلے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی سے آگاہ کیا، انھوں نے کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے.
صحت تحفظ ہیلپ لائن کا بنیادی مقصدپاکستان پولیو پروگرام کا ملک میں ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنانے کے عمل میں مدد کرنا ہے کیونکہ اگر پولیو مہم کے دوران کسی کا بچہ ویکسین پینے سے رہ جائے تو والدین ہیلپ لائن 1166 پر رابطہ کرکے اپنے بچے کی ویکسینیشن کو یقینی بناسکتےہیں۔
پولیو ایک جان لیوا مرض ہے۔ گزشتہ سال پولیو کے 144 کیسز سامنے آئے۔ جس کی بڑی وجہ ویکسین کے خلاف ہونے والا پروپیگنڈا اور افواہیں تھیں۔ ہیلپ لائن والدین کو بروقت اور براہ راست مستند اورصحیح معلومات فراہم کرے گی جس سے افواہوں اور پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوسکے گا۔
پاکستان اور افغانستان دنیا میں دو ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس ابھی تک موجود ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پولیو کے خاتمے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ پولیو وائرس کے خاتمے کیلئے اپنےپانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ کرسکیں۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔