اسلام آباد، 24 اپریل 2018: وفاقی وزیر برائے قومی صحت، سائرہ افضل تارڑ رواں سال میں حفاظتی ٹیکوں کے عالمی ہفتے کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں بچوں کے والدین پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے گھرانوں اور کمیونٹی میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ انہوں نے ویکسین کے استعمال سے قابل تدارک مہلک بیماریوں سے اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان کی ویکسینیشن کروالی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک بھر کے بچوں کو ان 10 کے قریب مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے پُر عزم ہے تا کہ ان بچوں کے لیے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مسلسل جدوجہد جاری رکھتے ہوئےاس پروگرام کے تحت موثر اور محفوظ ویکسین کی ترسیل میں ہم نے خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
حفاظتی ٹیکوں کا عالمی ہفتہ دنیا بھر میں ہر سال 24 سے 30 اپریل تک منایا جاتا ہے۔ پولیو کے تدارک کے عالمی پروگرام (پی ای آئی) کے تعاون سے حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے وفاقی توسیعی پروگرام (ای پی آئی) کے تحت ملک بھر میں عوامی آگاہی کے مختلف پروگرام ترتیب دیے جا رہے ہیں۔ مذکورہ ہفتے کے حوالے سے اس سال علمی سطح پر جو موضوع متعارف کرایا گیا ہے وہ ہے "ویکسین کا استعمال، اجتماعی تحفظ"۔ اس موضوع کا انتخاب بنیادی طور پر شعبہ صحت سے منسلک تمام شراکتی اداروں، مالی امداد کے عالمی اداروں اور ہیلتھ ورکرز سمیت عوام کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ 10 کے قریب مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے حفاظتی ٹیکوں کے حوالے سے بچوں تک رسائی کے عمل کو یقینی بنائیں۔ اس کے لیے ضروری ہے عوامی آگاہی کے معاملات میں بہتری لاتے ہوئے حکومت بچوں میں حفاظتی ٹیکوں کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بناتے ہوئے عوام تک یہ پیغام بہم پہنچائیں کہ وہ حفاظتی ٹیکوں کے استعمال کے ذریعے اپنے بچوں میں مہلک بیماریوں کے خلاف اپنے بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
وفاقی و صوبائی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام (ای پی آئی) میں وزارت قومی صحت اور صوبائی شعبہ صحت مل کر کام کر رہے ہیںتاکہ دور دراز محرومی کے شکار طبقات میں اس بات کا احساس یقینی بنایا جا سکے کہ ملک کے ہر ایک بچے تک رسائی کا عمل یقینی بناتے ہوئے انہیں ایک مربوط ترسیلی نظام کے ذریعے مہلک بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین اور حفاظتی ٹیکے لگانے کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز بھی ایسے تمام بچوں کو ویکسین پلانے اور حفاظتی ٹیکے لگانے کے لیے کوشاں ہیں جو کسی وجہ سے ماضی میں اس سہولت سے محروم رہ گئے تھے۔
حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام (ای پی آئی) نے نیشنل پروگرام کوارڈینیٹر، ڈاکٹر ثقلین احمد گیلانی نے حفاظتی ٹیکوں کا ہفتہ منانے کے بارے میں وزارت قومی صحت کی قیادت، بین الاقوامی شراکتی اداروں اور مالی امداد کے عالمی اداروں کے نمائندوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ ترسیلی نظام اعلیٰ معیار کی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے انتہائی موثر اور کارآمد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی طور پر ایک ٹیم کی صورت میں ہم بچوں میں مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ان کی قوت مدافعت میں اضافے کو یقینی بنا سکتے ہیں اور اس طرح ہم ایک صحت مند قوم کی تعمیر کر سکتے ہیں۔
مشکل صورتحال کے باوجود ویکسین کی مدد سے کئی جانیں بچا لی گئی ہیں۔ پاکستان میں بچوں کو DTP-3 کی تین خوراکوں کی فراہمی میں سال 2016 میں 72 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ 2000ء میں یہ شرح 62 فیصد اور 1980ء مین صرف 3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ان اعدادو شمار سے یہ بات واضح ہے کہ ویکسین کے استعمال سے نومولود بچوں کو ڈائفتھیریا اور ٹیٹنس ٹاکسائیڈ کی پیلی اور تیسری خوراک کے ساتھ پرتوسس ویکسین کے استعمال سے انہین صحت مند زندگی کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ ویکسینیٹرز/ہیلتھ ورکرز ان اہداف کے حصول کے لیے مشکل ترین حالات کے باوجود انتھک جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی بدولت ہمارے ہیلتھ ورکرز اب تک پاکستان بھر میں 70 لاکھ سے زائد بچوں کو حفاظتی ویکسین فراہم کر چکے ہیں۔
پولیو کے تدارک کے حوالے سے قائم ایمرجنسی اپریشنز سینٹر کے نیشنل کوارڈینیٹر، ڈاکٹر رانا صفدر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پولیو پروگرام کے اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں ملک بھر میں مہلک بیماریوں کے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں مزید بہتری لانی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حفاظتی ۓیکوں کے عالمی ہفتے کے اس موقع پر ہمیں اپنے صفِ اول کے ان پولیو ورکرز کے خدمات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے جنھوں نے پولیو کے موضی وائرس کو ملک کے مخصوص حصوں تک محدود رکھنے میں ہمیں مدد فراہم کی۔ ان تمام کامیابیوں کے باوجود ابھی ہمارا مقصد مکمل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں ہمارے صف اول کے پولیو ہیلتھ ورکرز مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ملک بھر کے بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکوں لگوانے میں بھی ہمیں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔
حفاظتی ٹیکہ جات بچوں کو صحت مند اور محفوظ زینگی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے انتہائی موثر اور سستا ترین طیقہ علاج ہے۔ دنیا بھر میں حفاظتی ٹیکوں کی مدد سے 20 سے 30 لاکھ بچوں کو ویکسین کے استعمال سے قابل تدارک مہلک بیماریوں سے تحفظ فراہم کیا جا چکا ہے۔ حفاظتی تیکوں کی مدد سے بچوں میں دیگر ابتدائی امراض کے خلاف بھی قوت مدافعت میں اضافے میں مدد ملتی ہے۔ بچوں کو مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں میں کوتاہی سے ماں اور بچے کو دیگر بیماریاں لاحق ہونے کا بھی خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ حفاظتی ٹیکوں کو ترجیحی بنیادوں پر بچوں کو دلانے سے ہم زیادہ سے زیادہ بچوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجئیے: ساجد حسین شاہ، پبلک ریلیشن آفیسر، وزارت قومی صحت، 03006305306, sajidshahpro@gmail.com