دنیا کبھی بھی پولیو کا خاتمہ کرنے کے لئے کسی بہتر پوزیشن میں نہیں رہی ہے، پھر بھی پاکستان اور افغانستان کو اس وائرس سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے روزانہ جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ 4 اور 5 جون کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اپنے اجلاس میں تکنیکی مشاورتی گروپ (TAG) اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ پاکستان جو عالمی سطح پر خاتمے کے لئے سب سے بڑا ایک واحد چیلنج ہے،2015 میں پولیو کے پھیلاؤ کے روکنے کے ٹریک پر واپس آ رہا ہے۔

2014 میں، پاکستان میں دنیا کے 85 فی صد کیسز رپورٹ کئے گئے تھے۔ اس سال 26 بچے پولیو کی وجہ سے معذور ہوئے ہیں، جوان کیسز سے 72 فی صد کم ہیں جو ہم نے اس عرصے کے دوران 2014 میں دیکھے تھے۔ کیسز میں یہ کمی ظاہر کرتی ہے کہ پشاور، خیبر ایجنسی، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (FATA)، اور پاکستان کے وسطی بلاک میں، پاکستان پولیو سے پاک ایک مستقبل کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔

محروم رہ جانے والا ہر بچہ

گزشتہ چند ماہ میں جو اہم بہتریاں آئی ہیں وہ اس تعداد پر توجہ دینے کی بجائے کہ کتنے بچوں تک پہنچا گیا اور کتنے بچوں کو ویکسی نیٹ کیاگیا، تبدیل کرتے ہوئے محروم رہ جانے والے ہر بچے کو تلاش کرنے اور اسے ویکسی نیٹ کرنے پر منتقل کی جا چکی ہے۔ تکنیکی مشاورتی گروپ کی اس حقیقت کے ساتھ حوصلہ افزائی کی گئی تھی کہ جنوبی وزیرستان، اور پشاور اور کراچی کے کچھ حصوں سمیت مسلسل محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں قابل ذکر کمی آئی ہے۔ اسی طرح، 2014 میں فوجی مہموں کی وجہ سے شمالی وزیرستان سے انخلا سے ایسی آبادی کو ویکسی نیٹ کرنے کا موقع حاصل ہوا جن تک ایک لمبی مدت نہ تو پہنچا جا سکا تھا اور نہ ہی ان کی ویکسی نیشن ہو سکی تھی۔ اس علاقے کے ساتھ مخصوص جدت پسندی پر مبنی جاری اقدامات اور کمیونٹی کی بڑھتے ہوئے شمولتی وہ اہم ٹولز ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد زیرو تک لائی جا چکی ہے۔

معمے کے ٹکڑے

فروری میں حالیہ ترین مشاورت کے بعد سے اب تک، تکنیکی مشاورتی گروپ نے تسلیم کیا ہے کہ خاص طور پر جدت پر مبنی طرز عمل اپناتے ہوئے خاطر خواہ کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ اس طرزعمل میں حفاظتی ٹیکوں کی اضافی سرگرمیوں میں غیر سرگرم پولیو ویکسین (IPV) کا استعمال، کارکنان صحت کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات، اور صحت کے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ ویکسینز کے ساتھ صحت کیمپوں تک رسائی شامل ہیں۔

پاکستان کے پاس پولیو کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے تمام درکار ٹولز موجود ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان ٹولز کویہ یقینی بنانے کے لئے استعمال کیا جائے کہ معمے کے حتمی ٹکڑے یک جا ہو کر پھیلاؤ کے رواں مشکل موسم میں ٹھوس تبدیلی کے لئے کام کر رہے ہیں۔ یہ لازمی پہلو تمام سطحوں پر جواب دہ حکومت، کمیونٹی کا بھروسہ اور کارکن صحت کی حفاظت، اس عمل میں مصروف کمیونٹی قائدین، جدید حلوں کے تسلسل سے استعمال اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پروگراموں کے دوران درست جگہوں پر درست ویکسینز استعمال کی جا رہی ہیں، جیسا کہ قوت مدافعت میں رفتہ رفتہ اضافہ کرنے کے لئے رسائی کے لئے مشکل علاقوں میں پروگراموں کے دوران غیر سرگرم پولیو ویکسین (IPV) کا استعمال۔

کچھ مخصوص علاقوں میں عدم تحفظ، پاکستان میں پولیو کے خاتمے میں سب سے رکاوٹ کے طور پر موجود ہے، جس کے نتیجے میں مہموں میں تاخیر ہوجاتی ہے یا چلنے سے رہ جاتی ہیں۔ اس صورت حال سے نبٹنے کے لئے وہاں پر غیر رسمی ٹولز کا استعمال جیسا کہ زنانہ کمیونٹی رضاکاران اور صحت کیمپ، زیادہ قابل قدر ثابت ہوئے ہیں۔WHO کے ڈائریکٹر پولیو آپریشنز اور ریسرچ، ڈاکٹر حامد جعفری یہ دلیل دیتے ہیں کہ "ہم تنازعے اور سیاست کو اپنے راستے کی دیوار بننے کی اجازت نہیں دے سکتے کیوں کہ چین کے اختتام پر، دروازے کے پیچھے، ایک ماں یا ایک باپ کھڑا ہوتا ہے جو اپنے بچے کو تحفظ دینے کا خواہش مند ہوتا ہے۔"

پاکستان کے لئے قومی ہنگامی عملی منصوبے نے وائرس کا کھوج لگاکر، اسے قابو میں رکھتے ہوئے اور اس کا خاتمہ کرتے ہوئے، قوت مدافعت کو قائم رکھتے ہوئے اور اس میں اضافہ کرتے ہوئے، اور ایک مرتبہ اس کے پھیلاؤ کے رک جانے کے بعد تحفظ کو دیرپا بنانے میں مدد دینے کے لئے روٹین کے حفاظتی ٹیکوں کے عمل کو مضبوط بناتے ہوئے، جتنی جلد ممکن ہو سکے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایک عملی منصوبہ تشکیل دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ستمبر 2015 اور مئی 2016 کے درمیان ویکسین کی متعدد خوراکوں کے ساتھ ہر بچے تک پہنچنا ہے۔ یہ پروگرام مضبوط ہو رہا ہے اور وسط اگست تک اعلیٰ معیار لاگو کرنے کے لئے ثابت قدم رہنے کے لئے بالکل تیار ہے۔ اس پروگرام کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ پاکستان-افغانستان کی سرحدوں کے دونوں اطراف وائرسز کے پھیلاؤ کے بعد، افغانستان کے ساتھ ہم آہنگ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ 2450 کلو میٹر لمبی سرحد کے ساتھ موسمی کارکنوں، تارکین وطن اور جو لوگ موسمی حالات انتہائی سنگین ہو جانے کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، سے ایک ہی وقت میں نمٹنے کے لئے ویکسی نیشن کے عارضی مراکز قائم ہیں۔

ڈاکٹر جعفری کہتے ہیں کہ "پاکستان میں حالیہ بہتری بہت امید افزا ہے۔ ہم اس ملک میں پولیو کے خاتمے کو برسوں نہیں بلکہ مہینوں میں تلاش کر لیں گے۔" اگر پولیو پروگرام کے تمام عناصر پولیو ویکسی نیشن مہموں کے دوران ہر بچے تک پہنچنے اور اس پولیو کے خلاف تحفظ فراہم کرنےکی ذمہ داری اٹھا لیں، تو پاکستان پولیو کے خاتمے کے لئے طے کردہ ہدف تک پہنچنے میں دنیا سے بازی لے جائے گا۔